اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 54

حاب بدر جلد 3 54 حضرت عمر بن خطاب ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَافَةَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَهَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ حَى لَا يَمُوتُ وَقَرَءَ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَابِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (آل عمران:145) فَرَجَعَ الْقَوْمُ إِلَى قَوْلِهِ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ عمر خطاب کہتے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی ال تیم فوت ہو گئے تو میں اپنی اسی تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا بلکہ وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ عیسی بن مریم اٹھائے گئے اور ابو بکر نے کہا کہ جو شخص محمد ملا لی کم کی عبادت کرتا ہے تو وہ تو ضرور فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد صلی ال نیم کے خدا کی عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے۔نہیں مرے گا یعنی ایک خدا ہی میں یہ صفت ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور باقی تمام نوع انسان و حیوان پہلے اس سے مر جاتے ہیں کہ ان کی نسبت خلود کا گمان ہو۔“ ہمیشہ رہنے کا گمان بھی ہو۔وہ اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔” اور پھر حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رسول ہیں اور سب رسول دنیا سے گذر گئے۔کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم مرتد ہو جاؤ گے۔تب لوگوں نے اس آیت کو سن کر اپنے خیالات سے رجوع کر لیا۔اب سوچو کہ حضرت ابو بکر کا اگر قرآن سے یہ استدلال نہیں تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں اور نیز اگر یہ استدلال صریح اور قطعِيَّةُ الدَّلالت نہیں تھا تو وہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے۔یعنی وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلیل دے رہے ہیں اور بتانے والے کو بتا رہے ہیں کہ صحابہ جو بقول آپ کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے، ” محض ظنی اور شکی امر پر کیونکر قائل ہوگئے اور کیوں یہ حجت پیش نہ کی کہ یا حضرت! یہ آپ کی دلیل نا تمام ہے اور کوئی نص قطعیہ الدلالت "۔آپ کے ہاتھ میں نہیں۔کیا آپ اب تک اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن ہی آیت رَافِعُكَ الی میں حضرت مسیح کا بچشمِهِ الْعُنْصُرِی آسمان پر جانا بیان فرماتا ہے۔کیا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ بھی آپ نے نہیں سنا۔پھر آنحضرت صلی اللی کم کا آسمان پر جانا آپ کے نزدیک کیوں مُسْتَعْبَدُ ہے بلکہ صحابہ نے جو مذاق قرآن سے واقف تھے آیت کو سن کر اور لفظ خَلَتْ کی تشریح فقرہ آفَابِنُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ میں پاکر فی الفور اپنے پہلے خیال کو چھوڑ دیا۔ہاں ان کے دل آنحضرت کی موت کی وجہ سے سخت غمناک اور چور ہو گئے اور ان کی جان گھٹ گئی اور حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اس آیت کے سننے کے بعد میری یہ حالت ہو گئی ہے کہ میرے جسم کو میرے پیر اٹھا نہیں سکتے اور میں زمین پر گرا جاتا ہوں۔سبحان اللہ کیسے سعید اور وَقَافُ عِنْدَ القُرآن تھے کہ جب آیت میں غور کر کے سمجھ آگیا کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تب بجز اس کے کہ رونا شروع کر دیا اور غم سے بھر گئے اور کچھ نہ کہا۔“ پھر ایک اور موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ جو شخص حضرت سید نا محمد مصطفی صلی اللی کام کی نسبت یہ کلمہ منہ پر لائے گا کہ وہ مر گئے ہیں تو میں اس کو اپنی اسی تلوار سے قتل کر دوں گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کو اپنے کسی خیال کی وجہ سے 105❝