اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 34
اصحاب بدر جلد 3 34 حضرت عمر بن خطاب غالب آئی اور قریش مدینہ کی طرف لوٹنے کے لیے تیار ہو گئے۔آنحضرت صلی یہ کام کو جب ان واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فوراً اعلان فرمایا کہ مسلمان تیار ہو جائیں مگر ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ سوائے ان لوگوں کے جو اُحد میں شریک ہوئے تھے اور کوئی ہمارے ساتھ نہ نکلے۔70 71 یہ بھی ایک جگہ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی المیہ ملک کو جب قریش کے اس مشورہ کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بلایا اور انہیں معاملے سے آگاہ فرمایا۔دونوں نے مشورہ دیا کہ دشمن کے تعاقب میں جانا چاہیے۔” چنانچہ احد کے مجاہدین جن میں سے اکثر زخمی تھے اپنے زخموں کو باندھ کر اپنے آقا کے ساتھ ہو لئے اور لکھا ہے کہ اس موقعہ پر مسلمان ایسی خوشی اور جوش کے ساتھ نکلے کہ جیسے کوئی فاتح لشکر فتح کے بعد دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔آٹھ میل کا فاصلہ طے کر کے آپ حمراء الاسد میں پہنچے۔اب چونکہ شام ہو چکی تھی آپ نے یہیں ڈیر اڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میدان میں مختلف مقامات پر آگ روشن کر دی جاوے۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حمراء الاسد کے میدان میں پانچ سو آگئیں شعلہ زن ہو گئیں جو ہر دور سے دیکھنے والے کے دل کو مرعوب کرتی تھیں۔غالباً اسی موقعہ پر قبیلہ خزاعہ کا ایک مشرک رئیس معبد نامی آنحضرت صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے احد کے مقتولین کے متعلق اظہار ہمدردی کی اور پھر اپنے راستہ پر روانہ ہو گیا۔دوسرے دن جب وہ مقام رؤ عاء میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ قریش کا لشکر وہاں ڈیر اڈالے پڑا ہے اور مدینہ کی طرف واپس چلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔معبد فوراً ابوسفیان کے پاس گیا اور اسے جا کر کہنے لگا کہ تم کیا کرنے لگے ہو ؟ واللہ ! میں تو ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لشکر کو حمراء الاسد میں چھوڑ کر آیا ہوں اور ایسا بار عب لشکر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور احد کی ہزیمت کی ندامت میں ان کو اتنا جوش ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی بھسم کر جائیں گے۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں پر معبد کی ان باتوں سے ایسار عب پڑا کہ وہ مدینہ کی طرف کوٹنے کا ارادہ ترک کر کے فورا مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔آنحضرت صلی عوام کو لشکر قریش کے اس طرح بھاگ نکلنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے خدا کا شکر کیا اور فرمایا کہ یہ خدا کار عب ہے جو اس نے کفار کے دلوں پر مسلط کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ نے حمراء الاسد میں دو تین دن اور قیام فرمایا۔غزوة بنو مصطلق 72% غزوہ بنو مصطلق شعبان پانچ ہجری میں ہوا۔اسے غزوۂ مریسیع بھی کہتے ہیں۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھا ہے کہ قریش کی مخالفت دن بدن زیادہ خطرناک صورت اختیار کرتی جاتی تھی۔وہ اپنی ریشہ دوانی سے عرب کے بہت سے قبائل کو اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کھڑا کر چکے تھے لیکن اب ان کی عداوت نے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا اور وہ یہ کہ حجاز کے وہ