اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 476

ب بدر جلد 3 476 حضرت علی قسم ! ابو بکر کی ایک ساعت آل فرعون کے مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر ہے اور بڑھ کر ہے اس لیے کہ وہ لوگ اپنا ایمان چھپاتے پھرتے تھے اور ابو بکرؓ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔وو حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ : 945 ر سول کریم صلی الم نے حضرت علی کو نصیحت کی۔فرمایا اے علی ! اگر تیری تبلیغ سے ایک آدمی بھی ایمان لے آئے تو یہ تیرے لئے اس سے بہتر ہے کہ دو پہاڑوں کے درمیان تیری بھیٹروں اور بکریوں کا ایک بڑا بھاری گلہ جارہا ہو اور تو اسے دیکھ کر خوش ہو۔946 ام المومنین حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی علیکم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض 947 رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔7 حضرت زر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا۔یقیناً نبی امی صلی علی کریم کا یہ مجھ سے عہد تھا کہ مجھ سے صرف مومن محبت رکھے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔948 949 حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی تم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تمہاری مثال حضرت عیسیٰ کی سی ہے جن سے یہودیوں نے اتنا بغض کیا کہ ان کی والدہ پر بہتان باندھ دیا اور عیسائی لوگ آپ کی محبت یعنی عیسی علیہ السلام کی محبت میں اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے آپ کو وہ مقام دے دیا جو کہ ان کا مقام نہ تھا۔پھر حضرت علی نے فرمایا: خبر دار !میرے بارے میں دو طرح کے آدمی ہلاک ہوں گے۔ایک وہ جو محبت میں غلو کر کے مجھے وہ مقام دیں گے جو کہ میر امقام نہیں ہے اور دوسرے وہ لوگ جو مجھ سے بغض رکھیں گے اور میری دشمنی میں مجھ پر بہتان باندھیں گے۔حضرت علی فے کے مال یعنی وہ مالِ غنیمت جو دشمن سے جنگ کیے بغیر ہاتھ لگے ، اس کی تقسیم میں حضرت ابو بکر کے طریق کو اختیار کرتے تھے۔آپؐ کے پاس جب بھی مال آتا تو آپ وہ سارے کا سارا تقسیم کر دیتے اور اس میں سے کچھ بھی بچا کر نہ رکھتے سوائے اس کے جو اس روز تقسیم ہونے سے رہ جاتا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اے دنیا! جا میرے علاوہ کسی اور کو جاکر دھوکا دے۔آپ کے کے مال میں سے نہ تو خود لیتے اور نہ کسی گہرے دوست یا عزیز کو اس میں سے کچھ دیتے۔آپ گورنری اور عہدہ وغیرہ صرف دیانت دار اور امین لوگوں کو دیتے۔جب آپ کو ان میں سے کسی کی خیانت کی خبر پہنچتی تو آپ ان کو یہ آیات لکھ کر بھیجتے۔قَدْ جَاءَ تَكُم مَّوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُم (یونس:58) یقینا تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت کی بات آچکی ہے اور اوفُوا الْمِكْيَالَ وَ الْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ