اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 456
اصحاب بدر جلد 3 456 حضرت علی نے جو اُن کے اس دھوکا میں آگئے تھے حضرت علی ہو اس بات پر مجبور کیا کہ آپ حکم مقرر کریں۔چنانچہ معاویہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت علی کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعری حکم مقرر ہوئے۔یہ تحکیم دراصل قتل عثمان کے واقعہ میں تھی اور شرط یہ تھی کہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ ہو گا۔“ اور یہ حکم اس لیے مقرر کیے گئے تھے کہ حضرت عثمان کا جو قتل ہے اس واقعہ کے بارے میں فیصلہ ہو گا اور یہ تھا کہ قرآن کریم کے مطابق جو بھی قاتل ہیں ان کو سزا دینے کے لیے یا ان کو پکڑنے کے لیے فیصلہ ہو گا۔”مگر عمر و بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری دونوں نے مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہتر ہو گا کہ پہلے ہم دونوں یعنی حضرت علی اور حضرت معاویہ گو ان کی امارت سے معزول کر دیں۔“ تحکیم تو اس لیے تھی، اس لیے حکم مقرر کیے گئے تھے کہ حضرت عثمان کے قتل کے بارے میں فیصلہ کریں لیکن یہاں دونوں حکمین جو مقر ر کیے گئے تھے انہوں نے یہ ایک فیصلہ کر دیا کہ دونوں کو پہلے معزول کیا جائے پھر بعد میں بات ہو گی کیونکہ تمام مسلمان انہی دونوں کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا ہو رہے ہیں“ یہ ان دونوں کا خیال تھا اور پھر آزادانہ رنگ میں مسلمانوں کو کوئی فیصلہ کرنے دیں تاکہ وہ جسے چاہیں خلیفہ بنائیں حالانکہ وہ اس کام کے لیے مقرر ہی نہیں ہوئے تھے۔“ یہ تو بات ہی غلط تھی جس کے بارے میں ان علمین نے سوچنا شروع کر دیا تھا کیونکہ وہ اس کام کے لیے مقرر نہیں کیے گئے تھے ”مگر بہر حال ان دونوں نے اس فیصلہ کا اعلان کرنے کے لیے ایک جلسہ عام منعقد کیا اور حضرت عمرو بن العاص نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہا کہ پہلے آپ اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیں، بعد میں میں اعلان کر دوں گا۔چنانچہ حضرت ابو موسیٰ نے اعلان کر دیا کہ وہ حضرت علی کو خلافت سے معزول کرتے ہیں۔اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ابو موسیٰ نے حضرت علی و معزول کر دیا ہے اور میں بھی ان کی اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علی کو خلافت سے معزول کرتا ہوں لیکن معاویہ کو میں معزول نہیں کرتا بلکہ اس کے عہدہ امارت پر انہیں بحال رکھتا ہوں (حضرت عمرو بن العاص خود بہت نیک آدمی تھے لیکن اس وقت حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ” میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا) اس وقت بہر حال وہ باوجود اس نیکی کے وہاں کسی طرح لوگوں کی باتوں میں آگئے یا کیا ہوا؟ یہ ایک علیحدہ مضمون ہے اس لیے اس بحث میں نہیں پڑتا لیکن بہر حال ان کا فیصلہ غلط تھا۔” اس فیصلہ پر حضرت معاویہ کے ساتھیوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ جو لوگ محکم مقرر ہوئے تھے انہوں نے علی کی بجائے معاویہ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور یہ درست ہے مگر حضرت علی نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ حکم اس غرض کے لیے مقرر تھے اور نہ ان کا یہ فیصلہ کسی قرآنی حکم پر ہے۔اس پر حضرت علی کے وہی منافق طبع ساتھی جنہوں نے حکم مقرر کرنے پر زور دیا تھا یہ شور مچانے لگ گئے کہ حکم مقرر ہی کیوں کیے گئے تھے جبکہ دینی معاملات میں کوئی حکم ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت علی نے جواب دیا کہ اول تو یہ بات معاہدہ میں شامل تھی کہ ان کا فیصلہ قرآن کے مطابق ہو گا جس کی انہوں نے تعمیل نہیں