اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 447
اصحاب بدر جلد 3 447 حضرت علی انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ کی اطاعت منظور ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ پھر سوچ لو اور آپس میں مشورہ کر لو۔چنانچہ انہوں نے مشورے سے یہ طے کیا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اگر حضرت علی کی بیعت کر لیں تو سب لوگ حضرت علی کی بیعت کر لیں گے ورنہ جب تک وہ حضرت علی کی بیعت نہیں کریں گے اس وقت تک پورے طور پر امن قائم نہیں ہو گا۔اس پر حکیم بن جبلہ کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت زبیر کی طرف اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت طلحہ کی طرف روانہ کیا گیا جنہوں نے تلواروں کا نشانہ کر کے انہیں بیعت پر آمادہ کیا یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی بیعت کرنی ہے تو کر دور نہ ابھی ہم تم کو مار ڈالیں گے۔چنانچہ انہوں نے مجبور ہو کر رضامندی کا اظہار کر دیا اور یہ واپس آگئے۔دوسرے دن حضرت علی منبر پر چڑھے اور فرمایا: اے لوگو! تم نے کل مجھے ایک پیغام دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ تم اس پر غور کر لو۔کیا تم نے غور کر لیا ہے اور کیا تم میری کل والی بات پر قائم ہو ؟ اگر قائم ہو تو یاد رکھو کہ تمہیں میری کامل فرمانبرداری کرنی پڑے گی۔اس پر وہ پھر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان کو زبر دستی کھینچ کر لائے اور روایت میں صاف لکھا ہے کہ جب وہ حضرت طلحہ کے پاس پہنچے اور ان سے بیعت کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا۔اِنّى إِنَّمَا أُبَايِعُ گڑھا۔دیکھو میں زبر دستی بیعت کر رہا ہوں۔خوشی سے بیعت نہیں کر رہا۔اسی طرح حضرت زبیر کے پاس جب لوگ گئے اور بیعت کے لئے کہا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ابي انما اتابع گڑھا کہ تم مجھ کو مجبور کر کے بیعت کروارہے ہو ، دل سے میں یہ بیعت نہیں کر رہا۔اس طرح عبد الرحمن بن جندب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قتل کے بعد اشتر طلحہ کے پاس گئے اور بیعت کے لئے کہا۔انہوں نے کہا کہ مجھے مہلت دو۔میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔مگر انہوں نے نہ چھوڑا اور جَاءَ بِهِ يَتْلُه تَلًّا عَنِيْفًا۔ان کو زمین پر نہایت سختی سے گھسٹتے ہوئے لے آئے جیسے بکرے کو گھسیٹا جاتا ہے۔86 حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی حضرت طلحہ جس وقت ایک باہمی اختلاف کے موقع پر حضرت علی کے مقابل پر کھڑے ہوئے اور پھر جب ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اس میں میری غلطی تھی تو وہ میدان جنگ سے چلے گئے۔“ یہاں یہ قصہ اب شروع ہوتا ہے کہ حضرت طلحہ مقابلے پر آئے اور بیعت نہیں کی لیکن اس کی تفصیل بھی بیان فرماتے ہیں، آپ مقابلہ پر بیشک آئے، پہلے بیعت زبر دستی کی۔پھر مقابلے پر بھی آئے۔مطلب زبر دستی کروائی گئی پھر بعد میں جب موقع ملا تو اختلاف بھی ہوا، پھر جنگ بھی ہوئی لیکن جب بات ان کی سمجھ میں آگئی تو پھر وہ چھوڑ کے میدان جنگ سے چلے گئے کہ حضرت علی ٹھیک ہیں۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں۔”آپ واپس گھر جارہے تھے تو کسی وحشی انسان نے جو حضرت علی کی فوج میں سے کہلا تا تھا راستے میں جاتے ہوئے ان کو قتل کر دیا اور پھر حضرت علی کے پاس انعام کی خواہش 886