اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 436

محاب بدر جلد 3 436 حضرت علی کسی اور میں ہوئی تو بھی ہم یہ بات جان لیں گے اور آپ اس کے بارے میں ہمیں کوئی وصیت کر جائیں گے۔حضرت علی نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر ہم نے رسول اللہ صلی علیم سے یہ بات پوچھی اور آپ نے ہمیں یہ (اعزاز) نہ دیا تو آپ کے بعد لوگ ہمیں نہیں دیں گے۔بخدا میں تو رسول اللہ صلی علیم سے اس کے متعلق نہیں پوچھوں گا۔861 یہ بھی بخاری کی روایت ہے بخاری میں اس جگہ عربی الفاظ ہیں أَنْتَ وَاللهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا اس کے متعلق حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنی کتاب میں یہ نوٹ درج کیا ہے کہ یہ اس شخص کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوا ہے جو آپ صلی علیکم کے بعد کسی اور کے ماتحت ہو جائے گا اور مطلب یہ ہے کہ آپ صلی للی کم کی تین دن کے بعد وفات ہو جائے گی۔52 حضرت عامر سے روایت ہے کہ (نبی کریم صلی کرم کی وفات کے بعد ) رسول اللہ صلیا یکم کو حضرت علی، حضرت فضل اور حضرت اسامہ بن زید نے غسل دیا اور انہی افراد نے آپ کو قبر میں اتارا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن عوف کو نبھی داخل کیا۔863 حضرت ابو بکر کی بیعت 862 حضرت علی کی حضرت ابو بکر کی بیعت کرنے کے بارے میں مختلف روایتیں آتی ہیں کیونکہ بعض روایات میں یہ ہے کہ حضرت علی نے پوری رضا ور غبت کے ساتھ فوراً حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی۔بعض اس کے خلاف لکھتے ہیں۔بہر حال حضرت ابوسعید خدری سے روایت مروی ہے کہ مہاجرین و انصار نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تو حضرت ابو بکر منبر پر چڑھے تو انہوں نے لوگوں کی طرف دیکھا تو ان میں حضرت علی گونہ پایا۔حضرت ابو بکر نے حضرت علی کے بارے میں دریافت فرمایا۔انصار میں سے کچھ لوگ گئے اور حضرت علی کو لے آئے۔حضرت ابو بکر نے حضرت علی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ رسول اللہ صلی علی الم کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ! کیا تم مسلمانوں کی طاقت کو توڑنا چاہتے ہو ؟ حضرت علیؓ نے عرض کیا: اے رسول اللہ صلی علیکم کے خلیفہ !گرفت نہ کیجیے۔پھر انہوں نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی۔864 تاریخ طبری میں ہے کہ حبیب بن ابو ثابت سے یہ روایت ہے کہ حضرت علی اپنے گھر میں تھے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور ان سے کہا گیا کہ حضرت ابو بکر بیعت لینے کے لیے تشریف فرما ہیں۔حضرت علی قمیص پہنے ہوئے تھے۔جلدی سے اس حالت میں باہر نکلے کہ نہ ہی ان پر ازار تھا اور نہ ہی کوئی چادر۔آپ اس امر کو نا پسند کرتے ہوئے نکلے کہ کہیں اس سے دیر نہ ہو جائے یہاں تک کہ آپ نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور حضرت ابو بکڑ کے پاس بیٹھ گئے۔پھر آپ نے اپنے کپڑے منگوائے