اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 426
اصحاب بدر جلد 3 426 حضرت علی لئے آئیں تو یہ شرط ہو گی کہ آپ مکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہر ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا۔مجھے یہ شرط بھی منظور ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ آپ کو مسلح ہو کر مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہو گی۔آپ نے فرمایا: بہت اچھا ہم مسلح ہو کر مکہ میں داخل نہیں ہوں گے۔صلح کا معاہدہ طے ہو رہا تھا اور صحابہ کے دل اندر ہی اندر جوش سے اہل رہے تھے۔وہ غصہ سے تلملا رہے تھے مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔حضرت علی و صلح نامہ لکھنے کے لئے مقرر کیا گیا۔انہوں نے جب یہ معاہدہ لکھنا شروع کیا تو انہوں نے لکھا کہ یہ معاہدہ ایک طرف تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے ہے اور دوسری طرف مکہ کے فلاں فلاں رئیس اور مکہ والوں کی طرف سے ہے۔اس پر کفار بھڑک اٹھے اور انہوں نے کہا ہم ان الفاظ کو برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ نہیں مانتے۔اگر مانتے تو ان سے لڑائی کس بات پر ہوتی۔ہم تو ان سے محمد بن عبد اللہ کی حیثیت سے معاہدہ کر رہے ہیں، محمد رسول اللہ کی حیثیت سے معاہدہ نہیں کر رہے۔پس یہ الفاظ اس معاہدہ میں نہیں لکھے جائیں گے۔836" اس وقت صحابہ کے جوش کی کوئی انتہانہ رہی اور وہ غصہ سے کانپنے لگ گئے۔انہوں نے سمجھا اب خدا نے ایک موقع پیدا کر دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی بات نہیں مانیں گے اور ہمیں ان سے لڑائی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جائے گا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔معاہدہ میں سے رسول اللہ کا لفظ کاٹ دینا چاہئے۔“ آپ نے حضرت علی کو فرمایا کہ ” علی ! اس لفظ کو مٹا دو مگر حضرت علی ایسے انسان جو فرمانبر داری اور اطاعت کا نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نمونہ تھے ان کا دل بھی کانپنے لگ گیا۔ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا یار سول اللہ ! یہ لفظ مجھ سے نہیں مٹایا جاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لاؤ مجھے کاغذ دو اور کاغذ لے کر جہاں رسول اللہ کا لفظ لکھا تھا اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے !!! غزوہ خیبر جو محرم اور صفر سات ہجری میں ہوئی تھی اس کے بارے میں صحیح مسلم کی ایک لمبی روایت ہے۔حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا سردار مَرحَب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور وہ کہہ رہا تھا کہ خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہتھیار بند بہادر تجربہ کار ہوں جب کہ جنگیں شعلے بھڑکاتی ہوئی آئیں یعنی میری بہادری کا پتہ لگتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ اس کے مقابلے کے لیے میرے چچا عامر نکلے اور انہوں نے کہا خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہتھیار بند بہادر خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے والا ہوں۔راوی کہتے ہیں دونوں نے ضر میں لگائیں۔مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر پڑی اور عامر اس پر نیچے سے وار کرنے لگے کہ ان کی اپنی تلوار ہی ان کو آن لگی اور اس نے ان کی رگ کاٹ