اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 406
حاب بدر جلد 3 406 حضرت علی سے بڑھ کر اچھی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔اگر تم میری بات مانو تو تم دین و دنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے۔اب بتاؤ اس کام میں میرا کون مددگار ہو گا ؟ سب خاموش تھے اور ہر طرف مجلس میں ایک سناٹا تھا کہ یکلخت ایک طرف سے ایک تیرہ سال کا دبلا پتلا بچہ ، جس کی آنکھوں سے پانی بہ رہا تھا اٹھا اور یوں گویا ہوا۔گو میں سب میں کمزور ہوں اور سب میں چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔یہ حضرت علی کی آواز تھی۔آنحضرت صلی ا لم نے حضرت علیؓ کے یہ الفاظ سنے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھ کر فرمایا اگر تم جانو تو اس بچے کی بات سنو اور اسے مانو۔حاضرین نے یہ نظارہ دیکھا تو بجائے عبرت حاصل کرنے کے سب کھل کھلا کر ہنس پڑے اور ابو لہب اپنے بڑے بھائی ابو طالب سے کہنے لگا۔لو اب محمد تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی پیروی اختیار کرو۔اور پھر یہ لوگ اسلام اور آنحضرت صلی علیم کی کمزوری پر جنسی اڑاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔7936 حضرت مصلح موعودؓ اس واقعے کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی کا واقعہ ہے وہ بھی گیارہ سال کے تھے۔“ بچوں کو بھی اس کو غور سے سننا چاہیے ” جب وہ دین کی تائید کے لیے کھڑے ہوئے۔جب رسول کریم صلی یکم کو وحی ہوئی تو آپ نے ایک دعوت کی جس میں مکہ کے تمام بڑے بڑے امراء کو بلایا اور انہیں کھانا کھلایا۔پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں کچھ اپنے دعویٰ کی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔اس پر سارے اٹھ کر بھاگ گئے۔یہ دیکھ کر حضرت علی رسول کریم صلی الم کے پاس آئے اور کہنے لگے اے بھائی! آپ نے یہ کیا کیا؟ آپ جانتے ہیں کہ یہ بڑے دنیادار لوگ ہیں ان کو پہلے سنانا تھا اور پھر کھانا کھلانا تھا۔یہ بے ایمان تو کھانا کھا کر بھاگ گئے کیونکہ یہ کھانے کے بھوکے ہیں۔اگر آپ پہلے باتیں سناتے تو چاہے دو گھنٹہ سناتے وہ ضرور بیٹھے رہتے۔پھر ان کو کھانا کھلاتے۔چنانچہ رسول کریم صلی علیہم نے پھر اس طرح کیا۔پھر دوبارہ ان کو بلایا اور ان کی دعوت کی لیکن پہلے کچھ باتیں سنائیں اور پھر کھانا کھلایا۔اس کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا اے لوگو! میں نے تمہیں خدا کی باتیں سنائی ہیں۔کیا کوئی تم میں سے ہے جو میری مدد کرے اور اس کام میں میر اہاتھ بٹائے ؟ مکہ کے سارے بڑے بڑے آدمی بیٹھے رہے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے میرے چچا کے بیٹے ! میں ہوں۔آپ کی مدد کروں گا۔آپ نے سمجھا کہ یہ تو بچہ ہے۔چنانچہ پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! کیا تم میں سے کوئی ہے جو میری مدد کرے؟ پھر سارے بڑھے بڑھے بیٹھے رہے اور وہ گیارہ سال کا بچہ کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ میرے چچا کے بیٹے ! میں جو ہوں میں تیری مدد کروں گا۔پھر رسول کریم صلی الی یکم نے سمجھا کہ خدا کے نزدیک جوان یہی گیارہ سالہ بچہ ہے باقی بڑھے سب بچے ہیں۔“ ان میں کوئی طاقت نہیں ہے یہی بچہ ہے جو عقل مند ہے ” چنانچہ آپ نے ان کو اپنے ساتھ ملالیا اور پھر وہی علی آخر تک آپ کے ساتھ رہے اور پھر آپ کے بعد خلیفہ بھی ہوئے اور انہوں نے دین کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح آپ کی نسل کو بھی اللہ