اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 381
اصحاب بدر جلد 3 381 حضرت عثمان بن عفان حضرت عمرؓ سے بھی بحری جنگ کی اجازت مانگی تھی لیکن آپ نے اجازت نہیں دی تھی۔جب حضرت عثمان خلیفہ منتخب ہوئے تو امیر معاویہ نے آپ سے بھی بار بار تذکرہ کیا اور اجازت مانگی۔آخر کار حضرت عثمان نے اجازت دے دی اور فرمایا کہ تم خود لوگوں کا انتخاب نہ کرو اور نہ ہی ان کے درمیان قرعہ اندازی کرو بلکہ انہیں اختیار دو۔پھر جو اپنی خوشی سے اس جنگ میں شامل ہونا چاہے اسے ساتھ لے جاؤ اور اس کی مدد کرو۔چنانچہ امیر معاویہ نے ایسا ہی کیا۔انہوں نے عبد اللہ بن قیس جاسی کو امیر البحر مقرر کیا جس نے سمندر میں موسم گرما اور موسم سرما میں پچاس جنگیں کیں اور ان سب جنگوں میں مسلمانوں کا نہ تو کوئی سپاہی ڈوبا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان ہوا۔732 روایت میں یہ آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہت حضرت عثمان کی تھی۔حضرت عبد الرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ حضرت عثمان کا سر دھو رہی تھیں۔آپ نے فرمایا: اے میری بیٹی ! ابو عبد اللہ یعنی عثمان سے بہترین سلوک سے پیش آیا کرو کیونکہ وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق کے لحاظ سے سب سے زیادہ میرے مشابہ ہے۔حضرت یحی بن عبد الرحمن بن حاطب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بات کو مکمل اور خوبصورت رنگ میں بیان کرنے 733 میں حضرت عثمان سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا تا ہم آپ زیادہ بات چیت سے گریز کرتے تھے۔734 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔غالباً یہاں حضرت رقیہ کی جگہ حضرت ام کلثوم مراد ہو سکتی ہیں کیونکہ روایت میں ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ کی وفات ہو گئی تھی اور حضرت ابو ہریرۃ اس کے پانچ سال کے بعد مسلمان ہوئے تھے اور مدینہ آئے تھے تو حضرت ام کلثوم مراد ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کی وفات 19 ہجری میں ہوئی تھی۔بہر حال یہ روایت ہے کہ بنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اجو حضرت عثمان کی بیوی تھیں اور ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے ہیں اور میں نے آپ کے سر میں کنگھی کی ہے تو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ تم ابو عبد اللہ حضرت عثمان کو کیسا پاتی ہو ؟ میں نے عرض کیا بہت عمدہ۔آپ نے فرمایا : پس تو بھی ان سے عزت سے پیش آیا کر کیونکہ وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔735 حضرت عثمان میں عفت اور حیا بہت زیادہ تھی۔اس بارے میں ایک روایت ہے۔حضرت انس بن