اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 320

محاب بدر جلد 3 320 حضرت عثمان بن عفان کے سامنے بطور وفد کے پیش ہو چکا ہوں مگر خدا کی قسم ! جس طرح میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابیوں کو محمد کی عزت کرتے دیکھا ہے ایسا میں نے کسی اور جگہ نہیں دیکھا۔پھر اس نے اپنا وہ سارا مشاہدہ بیان کیا جو اس نے آنحضرت صلی علیم کی مجلس میں دیکھا تھا اور آخر میں کہنے لگا کہ میں پھر یہی مشورہ دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تجویز ایک منصفانہ تجویز ہے اسے قبول کر لینا چاہیے۔عُروہ کی یہ گفتگو سن کر قبیلہ بنی کنانہ کے ایک رئیس نے جس کا نام محلیس بن عَلْقَمَہ تھا قریش سے کہا اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاتا ہوں۔انہوں نے کہاہاں بے شک جاؤ۔چنانچہ یہ شخص حدیبیہ میں آیا اور جب آنحضرت صلی علیم نے اسے دُور سے آتے دیکھا تو صحابہ سے فرمایا یہ شخص جو ہماری طرف آرہا ہے ایسے قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے مناظر کو پسند کرتے ہیں۔پس فوراً اپنے قربانی کے جانوروں کو اکٹھا کر کے اس کے سامنے لاؤ تا کہ اسے پتہ لگے اور احساس پیدا ہو کہ ہم کس غرض سے آئے ہیں۔چنانچہ صحابہ اپنے قربانی کے جانوروں کو ہنکاتے ہوئے اور تکبیروں کی آواز بلند کرتے ہوئے اس کے سامنے جمع ہو گئے۔جب اس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا۔سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! یہ تو حاجی لوگ ہیں۔انہیں بیت اللہ کے طواف سے کسی طرح روکا نہیں جاسکتا۔چنانچہ وہ جلدی ہی قریش کی طرف واپس لوٹ گیا اور قریش سے کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے جانوروں کے گلے میں قربانی کے بار باندھ رکھے ہیں اور ان پر قربانی کے نشان لگائے ہوئے ہیں۔پس یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ انہیں طوافِ کعبہ سے روکا جائے۔قریش میں اس وقت ایک سخت انتشار کی کیفیت پید اہو رہی تھی اور لوگوں کی دو پارٹیاں بن گئی تھیں۔ایک پارٹی بہر صورت مسلمانوں کو واپس لوٹانے پر مصر تھی اور مقابلہ کے خیالات پر سختی سے قائم تھی مگر دوسری پارٹی اسے اپنی قدیم مذہبی روایات کے خلاف پا کر خوف زدہ ہو رہی تھی اور کسی باعزت سمجھوتہ کی متمنی تھی۔اس لیے فیصلہ معلق چلا جارہا تھا۔اس موقع پر ایک عربی رئیس مکرر بن حفص نامی نے قریش سے کہا کہ مجھے جانے دو۔میں کوئی فیصلہ کی راہ نکالوں گا۔قریش نے کہا اچھا تم بھی کوشش کر کے دیکھ لو۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی علیم کے پاس آیا۔آنحضرت صلی تعلیم نے اسے دُور سے آتے دیکھا تو فرمایا خدا خیر کرے یہ آدمی تو اچھا نہیں۔بہر حال مگرز آپ کے پاس آیا اور گفتگو کرنے لگا مگر ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ مکہ کا ایک نامور رئیس سهیل بن عمر و آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا جسے غالباً قریش نے اپنی گھبراہٹ میں مگرز کی واپسی کا انتظار کرنے کے بغیر بھجوادیا تھا۔آنحضرت صلی الیکم نے سہیل کو آتے دیکھا تو فرمایا یہ سُھیل آتا ہے۔اب خدا نے چاہا تو معاملہ آسان ہو جائے گا۔بہر حال یہ بات چیت ہوتی رہی۔اس موقع پر یہ واقعہ بھی ہوا کہ جب قریش کی طرف سے پے رپے سفیر آنے شروع ہوئے تو آنحضور صلی ﷺ نے یہ محسوس کر کے کہ آپ کی طرف سے بھی کوئی فہمیدہ شخص قریش کی طرف جانا چاہیے جو انہیں ہمدردی اور دانائی کے ساتھ مسلمانوں کا زاویہ نظر سمجھا