اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 13

ناب بدر جلد 3 13 حضرت عمر بن خطاب جب آپ نے بیعت کی ہے، اسلام قبول کیا ہے تو ” قریش میں سفارت کا عہدہ بھی انہی کے سپر د تھا۔“ اور ویسے بھی نہایت بارعب اور جری اور دلیر تھے۔2766 ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور انہوں نے دارِ ارقم سے نکل کر بر ملا مسجد حرام میں نماز ادا کی۔حضرت عمر آخری صحابی تھے جو دار ارقم میں ایمان لائے اور یہ بعثت نبوی کے چھٹے سال کے آخری ماہ کا واقعہ ہے۔اس وقت مکہ میں مسلمان مردوں کی تعداد چالیس تھی۔27 حضرت مصلح موعود حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے کے متعلق جس طرح بیان فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ: حضرت عمرؓ اسلام کی برابر سختی سے مخالفت کرتے رہے۔“ یعنی جب تک اسلام نہیں لائے مسلسل مخالفت کر رہے تھے۔”ایک دن ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس مذہب کے بانی کا ہی کام تمام کر دیا جائے اور اس خیال کے آتے ہی انہوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریم صلی ایم کے قتل کیلئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔راستہ میں کسی نے پوچھا کہ عمر کہاں جارہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو مارنے کیلئے جارہا ہوں۔اس شخص نے ہنس کر کہا اپنے گھر کی تو پہلے خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی تو اس پر ایمان لے آئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ جھوٹ ہے۔اس شخص نے کہا تم خود جا کر دیکھ لو۔حضرت عمر وہاں گئے۔دروازہ بند تھا اور اندر ایک صحابی قرآن کریم پڑھا رہے تھے۔آپ نے دستک دی۔اندر سے آپ کے بہنوئی کی آواز آئی۔کون ہے ؟ عمر نے جواب دیا عمر۔انہوں نے جب دیکھا کہ حضرت عمرؓ آئے ہیں اور وہ جانتے تھے کہ آپ اسلام کے شدید مخالف ہیں تو انہوں نے صحابی کو جو قرآن کریم پڑھارہے تھے کہیں چھپا دیا۔اسی طرح قرآن کریم کے اوراق بھی کسی کو نہ میں چھپا کر رکھ دیئے اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ چونکہ یہ سن کر آئے تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔“ یعنی ان کے بہنوئی اور بہن۔اس لئے انہوں نے آتے ہی دریافت کیا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی ہے ؟ آپ کے بہنوئی نے جواب دیا آخر دیر لگ ہی جاتی ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا: یہ بات نہیں۔کوئی خاص امر دروازہ کھولنے میں روک بنا ہے۔مجھے آواز آرہی تھی کہ تم اس صابی کی باتیں سن رہے تھے۔مشرکین مکہ رسول کریم صلی الی نام کو صابی کہا کرتے تھے ) انہوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی “ ان کے بہنوئی نے "لیکن حضرت عمر کو غصہ آیا اور وہ اپنے بہنوئی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے۔آپ کی بہن اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے درمیان میں آگئیں۔حضرت عمرہ چونکہ ہاتھ اٹھا چکے تھے اور ان کی بہن اچانک درمیان میں آگئیں وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور ان کا ہاتھ زور سے ان کی ناک پر لگا یعنی بہن کی ناک پر اور اس سے خون بہنے لگا۔حضرت عمر جذباتی آدمی تھے یہ دیکھ کر کہ انہوں نے عورت پر ہاتھ اٹھایا ہے جو عرب کے طریق کے خلاف تھا اور پھر بہن پر ہاتھ اٹھایا ہے۔حضرت عمرؓ نے بات ٹلانے کیلئے کہا اچھا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے ؟ بہن نے سمجھ لیا کہ عمر کے