اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 304
اصحاب بدر جلد 3 304 3 حضرت عثمان بن عفان حضرت عثمان بن عفان حضرت عثمان کے بارے میں پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہیے کہ یہ خود جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے البتہ ان آٹھ خوش نصیب صحابہ میں شامل تھے جنہیں نبی اکرم صلی علیم نے جنگ بدر کے مال غنیمت میں حصہ دے کر جنگ میں شامل ہونا ہی قرار دیا تھا۔نام و نسب آپ کا نام عثمان بن عفان بن ابو العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصي بن كلاب ہے۔اس طرح آپ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی علیم کے سلسلہ نسب کے ساتھ پانچویں پشت پر عبدا مناف پر جا کر ملتا ہے۔حضرت عثمان کی والدہ کا نام آروی بنت کریز تھا۔حضرت عثمان کی نانی ام حکیم بيضاء بنت عبد المطلب تھیں جو نبی صلی علیکم کے والد حضرت عبد اللہ کی سگی بہن تھیں۔ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی الیوم کے والد حضرت عبد اللہ اور حضرت عثمان کی نانی ام حکیم بیضاء بنت عبد المطلب جڑواں پیدا ہوئے تھے۔حضرت عثمان کی والدہ آروی بنت کریز نے صلح حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئیں اور اپنے بیٹے حضرت عثمان کے دور خلافت میں فوت ہونے تک مدینہ میں ہی قیام پذیر رہیں۔حضرت عثمان کے والد زمانہ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئے تھے۔کنیت 599 598 حضرت عثمان کی کنیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت عثمان کی کنیت ابو عمر و تھی۔جب حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللی کم سے آپ کے بیٹے عبد اللہ پیدا ہوئے تو اس کی مناسبت سے پھر مسلمانوں میں آپ کی کنیت ابو عبد اللہ بھی معروف ہو گئی۔ابن اسحاق کے مطابق نبی کریم صل الیہ کم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ کی شادی حضرت عثمان سے کی جو غزوہ بدر کے ایام میں وفات پاگئیں۔اس پر آنحضرت صلی للی کم نے اپنی دوسری بیٹی حضرت رقیہ کی بہن حضرت أقر کلثوم سے حضرت عثمان کی شادی کر دی اس وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جانے لگا۔600 یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ کو ذوالنورین اس لیے کہا جاتا تھا کہ آپ ہر رات نماز تہجد میں بہت زیادہ تلاوت قرآن کریم کیا کرتے تھے چونکہ قرآن نور ہے اور قیام اللیل بھی نور ہے اس لیے آپ