اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 12

حضرت عمر بن خطاب حاب بدر جلد 3 12 جس میں کسی مسلمان شخص کا یوں استقبال کیا گیا ہو۔یہ شخص بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں قسم دیتا ہوں کہ تمہیں مجھے ضرور بتاتا ہو گا۔اس نے کہا کہ میں زمانہ جاہلیت میں ان کا کاہن تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: کوئی بہت عجیب بات جو تمہاری چٹی تمہارے پاس لائی ہو۔کا ہن تھے جادو کرتے تھے۔کوئی چٹی تمہارے پاس کوئی عجیب بات لائی ہو۔اس نے کہا کہ ایک دفعہ جبکہ میں بازار میں تھا کہ وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس میں گھبراہٹ معلوم کی۔اس جیبی نے کہا۔کیا تم نے جنوں کو نہیں دیکھا اور ان کی پریشانی اور حیرت کو اور اونٹنیوں اور ان کے پالانوں سے ان کے جاملنے کو۔حضرت عمر نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ایک بار میں ان کے بتوں کے پاس سویا ہو ا تھا کہ ایک شخص گائے کا بچھڑ الایا اور اس نے اسے ذبح کیا تو ایک آواز دینے والے نے چیخ لگائی۔میں نے اس سے بلند آواز میں چیخنے والا نہیں سنا۔وہ کہہ رہا تھا کہ اے حد سے بڑھے ہوئے دشمن! ایک بامراد اور عمدہ کام ہے۔ایک خوش بیان شخص ہے وہ کہتا ہے لا الہ الا اللہ یعنی تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔اس پر لوگ اٹھے۔میں نے کہا میں نہیں نکلوں گا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ اس کے پیچھے کون ہے۔پھر آواز آئی اے حد سے بڑھے ہوئے دشمن! ایک بامراد اور عمدہ کام ہے۔ایک خوش بیان شخص ہے وہ کہتا ہے لا إله إلا الله یعنی تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔اس پر میں بھی کھڑا ہو گیا۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ کہا جانے لگا کہ یہ نبی ہیں۔بخاری کے بعض نسخوں میں لا الہ الا اللہ کی جگہ لَا اِلهَ إِلَّا أَنْتَ بھی آتا ہے۔تو یہ بخاری کی روایت ہے۔26 کبھی بہر حال حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بارے میں تاریخ وسیرت کی کتب میں مختلف روایات ملتی ہیں اور ان میں سب سے مشہور یعنی جو اکثر کتب میں مذکور ہے وہ وہی روایت ہے جس میں حضرت عمر تلوار لے کر نبی کریم صلی للہ ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کرنے کے لیے نکلے تھے تو راستہ میں کسی نے بتایا کہ اپنے گھر کی خبر لیں، تو آپ اپنے بہن اور بہنوئی کے گھر گئے اور یہی روایت زیادہ تر مانی جاتی ہے اور اس کا ہی اکثر جگہوں پہ ذکر ہے۔گو بے شمار روایتیں اور بھی ہیں جو میں نے بیان کی ہیں۔بہر حال میں نے جو روایتیں بیان کی ہیں اپنی اپنی ان روایتوں کو جنہوں نے بھی صحت پر سمجھا ہے ، مؤرخین نے بھی اور سیرت لکھنے والوں نے بھی، اس پر بڑی بخشیں کی ہیں لیکن بہر حال ہم تو اسی روایت کو صحیح مانتے ہیں جو بہن اور بہنوئی کے گھر والا معاملہ تھا اور پھر وہاں سے دار ارقم میں آپ گئے۔یہ کہا جاسکتا ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کی مذکورہ تمام روایات ہی اپنی جگہ درست ہوں جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مختلف مواقع پر حضرت عمر کے دل میں تبدیلی کے واقعات ہوتے رہے۔بعض دفعہ تبدیلی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن آخری قدم نہیں اٹھایا جاتا اور آخری واقعہ وہی ہوا جب اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر میں قرآن کریم سنا اور اسلام قبول کرنے کے لیے دربار رسالت میں حاضر ہو گئے۔بہر حال اللہ بہتر جانتا ہے۔”حضرت عمر کی عمر اس وقت تینتیس سال کی تھی اور آپ اپنے قبیلہ بنو عدی کے رئیس تھے۔