اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 299
صحاب بدر جلد 3 299 حضرت عمر بن خطاب حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ میں حضرت خالد نے غلطی سے قتل کر دیا تھا۔اس واقعہ نے اس کو اس قدر صدمہ پہنچایا تھا کہ ہمیشہ رویا کرتا اور مرثیہ کہا کرتا تھا۔حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مرثیہ پڑھنے کی فرمائش کی تو اس نے چند اشعار پڑھے۔حضرت عمرؓ نے اس سے کہا کہ اگر مجھے کوئی ایسامر شیہ کہنا آتا تو میں اپنے بھائی زید کا مرثیہ کہتا۔اس نے کہا اے امیر المومنین ! اگر میر ابھائی آپ کے بھائی کی طرح مارا جاتا یعنی شہادت کی موت مرتا تو میں ہر گز اس کا ماتم نہ کرتا۔حضرت عمرؓ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے ساتھ متم جیسی تعزیت کسی نے نہیں کی۔589 590" حضرت عمرؓ کے فضائل اور مناقب کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہو نا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی علی نام کی یہ پیشگوئی کہ قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی علم فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجناب صلی للی کم کا وجود ہی تھا اس لیے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خداصلی للی کم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق عمر اور حضرت ذوالنورین اور حضرت علی مرتضیٰ سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔ابو بکر جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اگر دین میں سچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی من جانب اللہ بتا سکتے۔591 پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” مجھے میرے رب کی طرف سے خلافت کے بارے میں از روئے تحقیق تعلیم دی گئی ہے اور محققین کی طرح میں اس حقیقت کی تہ تک پہنچ گیا اور میرے رب نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ صدیق اور فاروق اور عثمان (رضی اللہ عنہم ) نیکو کار اور مومن تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے چن لیا اور جو خدائے رحمان کی عنایات سے خاص کئے گئے اور اکثر صاحبان معرفت نے ان کے محاسن کی شہادت دی۔انہوں نے بزرگ و برتر خدا کی خوشنودی کی خاطر وطن چھوڑے۔ہر جنگ کی بھٹی میں داخل ہوئے اور موسم گرما کی دو پہر کی تپش اور سردیوں کی رات کی ٹھنڈک کی پرواہ نہ کی بلکہ نوخیز جوانوں کی طرح دین کی راہوں پر محو خرام ہوئے اور اپنوں اور غیروں کی طرف مائل نہ ہوئے اور اللہ رب العالمین کی خاطر سب کو خیر باد کہہ دیا۔ان کے اعمال میں خوشبو اور ان کے افعال میں مہک ہے اور یہ سب کچھ ان کے مراتب کے باغات اور ان کی نیکیوں کے گلستانوں کی