اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 11
حاب بدر جلد 3 11 حضرت عمر بن خطاب 23 کرتی تھیں اور پھر جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو پھر کھل کر باہر نکلنا شروع کیا۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمررؓ اس مرکز میں اسلام لانے والے آخری شخص تھے جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور وہ دار ارقم سے نکل کر بر ملا تبلیغ کرنے لگ گئے۔13 حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا یہی واقعہ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ایک اور جگہ بھی ملتا ہے۔اس جگہ سورہ کلہ کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے جبکہ دوسری جگہ سورۃ الحدید کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے جن کی حضرت عمرؓ نے اپنی بہن کے گھر میں تلاوت کی تھی۔24 حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے بارے میں ایک چھٹی روایت بھی ہے۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن قبول اسلام سے پہلے میں رسول اللہ صلی الی یکم کی تلاش میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گئے ہیں۔میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔آپ صلی یکم نے سورۃ الحاقہ کی تلاوت شروع کی۔میں قرآن کریم کی بناوٹ اور ترکیب سے متعجب ہوا اور میں نے کہا بخدا یہ تو شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ جب میں نے یہ سوچا تو آپ نے اِنَّهُ لَقَولُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ (احات : 41-42) وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ کی تلاوت فرمائی۔یعنی یقینا یہ عزت والے رسول کا قول ہے اور یہ کسی شاعر کی بات نہیں۔بہت کم ہے جو تم ایمان لاتے ہو۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ تو کاہن ہے، جادوگر۔جادو گر ہے۔پھر آپ صلی الیم نے یہ پڑھا کہ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِن قَلِيلًا مَا تَذَكَرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ وَ لَو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حجزين (الحاقة: 48743) تو پھر آپ نے اس سورت کی آخر تک تلاوت فرمائی اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔اور نہ یہ کہ یہ کسی کا ہن کا قول ہے۔بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔ایک تنزیل ہے تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کر دیتا تو ہم اسے ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔پھر ہم یقینا اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔پھر تم میں سے کوئی ایک بھی اس سے ہمیں روکنے والا نہ ہوتا۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس وقت سے اسلام میرے دل میں گھر کر گیا۔25 اور ایک ساتویں روایت بھی ملتی ہے جو بخاری کی روایت ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا ہے کہ میں نے جب بھی حضرت عمر کو کسی چیز کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میرا خیال ہے کہ یہ ایسے ہے تو وہ ویسے ہی ہوتی ہے جیسا کہ وہ گمان کرتے تھے۔ایک بار حضرت عمرؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک خوبصورت شخص گزرا۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ شاید میر اگمان غلط ہو یا تو یہ شخص جاہلیت والے اپنے دین پر ہے یا یہ ان لوگوں کا کا ہن تھا۔اس شخص کو میرے پاس لاؤ۔چنانچہ اسے آپ کے پاس بلا کر لایا گیا تو انہوں نے اس شخص سے وہی کہا۔اس نے کہا کہ میں نے آج کی مانند کوئی دن نہیں دیکھا