اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 280

ناب بدر جلد 3 280 حضرت عمر بن خطاب تو بہت بے چین ہوتے تھے۔بعض مثالیں میں گذشتہ ہفتوں کے جمعوں میں مختلف حوالوں سے پیش کر چکا ہوں مثلاً کس طرح ایک موقع پر آپ نے جب رات کو ایک عورت سے اس کے بچے کے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ کیونکہ عمر نے دودھ پیتے بچوں کا راشن مقرر نہیں کیا اس لیے میں بچے کو غذا کھانے کی عادت ڈالنے کے لیے دودھ نہیں دے رہی اور یہ بھوک سے رورہا ہے۔یہ بات سن کر حضرت عمر بے چین ہو گئے اور فوراً کھانے پینے کے سامان کا انتظام کیا اور پھر اعلان کیا کہ آئندہ سے ہر پید اہونے والے بچے کو بھی راشن ملا کرے گا۔527 اسی طرح ایک موقع پر ایک مسافر خاتون جس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا اور رات کو اسے ڈیرہ ڈالنا پڑا اور بچے بھوک سے رور ہے تھے۔آپ کو جب رات کو اس کا علم ہوا تو فوراسٹور سے کھانے پینے کا سامان اٹھا کر اس تک پہنچایا اور بے چین ہو گئے اور اس وقت تک آپ کو چین نہیں آیا جب تک کہ کھانا پکا کر ان بچوں کو کھلا کر انہیں ہنستا نہ دیکھ لیا پھر آپ اس جگہ سے واپس ہوئے۔18 528 حضرت مصلح موعود نے بیان کیا کہ: ”حضرت عمر کو دیکھ لو ان کے رعب اور دبدبہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کا نپتے تھے۔قیصر وکسریٰ کی حکومتیں تک لرزہ بر اندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی عورت کے بچوں کو بھوکا دیکھ کر عمر جیسا عظیم المرتبت انسان تلملا اٹھا اور وہ اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لاد کر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اٹھا کر ان کے پاس پہنچا اور اس وقت تک واپس نہیں لوٹا جب تک کہ اس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر ان بچوں کو نہ کھلا لیا اور وہ اطمینان سے سو نہ گئے۔529 پھر ایک واقعہ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے۔حضرت عمرؓ جب شام سے مدینہ لوٹ کر آئے تو لوگوں سے الگ ہو گئے تاکہ ان کے احوال معلوم کریں۔یعنی اس قافلے سے الگ ہو گئے اور ایک طرف چلے گئے تاکہ لوگوں کے احوال معلوم کریں تو آپ کا گزر ایک بڑھیا کے پاس سے ہو ا جو اپنے خیمے میں تھی۔آپ اس سے پوچھ کچھ کرنے لگے تو اس نے کہا اے شخص عمر نے کیا کیا؟ آپ نے کہا کہ وہ ادھر ہی تو ہے اور شام سے آگیا ہے تو اس عورت نے کہا کہ خدا اس کو میری طرف سے جزائے خیر نہ دے۔آپے نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے ! کیوں ؟ یعنی تم ایسا کیوں کہتی ہو؟ اس نے کہا کہ جب سے وہ خلیفہ ہوا ہے آج تک مجھے اس کا کوئی عطیہ نہیں ملا۔نہ کوئی دینار نہ در ہم۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: تجھ پر افسوس اور عمر کو تیرے حال کی خبر کیسے ہو سکتی ہے ؟ اس بڑھیا کو نہیں پتہ تھا کہ حضرت عمر ہیں، جبکہ تو ایسی جگہ بیٹھی ہوئی ہے ، دور دراز علاقے میں جنگل کے قریب بیٹھی ہوئی ہے تو اس نے کہا سبحان اللہ ! عورت کہنے لگی سبحان اللہ ! میں گمان نہیں کرتی کہ کوئی لوگوں پر والی بن جائے اور اس کو یہ خبر نہ ہو کہ اس کے آگے مشرق و مغرب میں کیا ہے۔تو عمر روتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ کہہ رہے تھے کہ ہائے عمر ہائے ! کتنے دعویدار ہوں گے۔ہر ایک تجھ سے زیادہ دین کی سمجھ رکھنے والا ہے اے عمر۔پھر حضرت عمرؓ نے اس