اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 278

حاب بدر جلد 3 278 حضرت عمر بن خطاب کہ آپ ایک باغ میں داخل ہوئے۔میرے اور آپ کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔آپ باغ کے اندر تھے۔میں نے اس وقت آپ کو یہ کہتے سنا۔واہ واہ اے خطاب کے بیٹے عمر ا تو امیر المومنین ہے۔اللہ کی قسم تو ضرور اللہ سے ڈر ورنہ وہ ضرور تجھے عذاب دے گا۔521 حضرت عمرہ کی انگوٹھی پر یہ جملہ کندہ تھا کہ گفی بِالْمَوْتِ وَاعِظا یا محمرُ کہ اے عمر ! واعظ ہونے کے لحاظ سے موت کافی ہے۔2 522 یعنی اگر انسان موت کو یا د رکھے تو وہی نصیحت کرنے والی ایک چیز ہے اور اپنی حالت کو ٹھیک رکھنے کے لیے یہی چیز کافی ہے۔523 عبد اللہ بن شداد کہتے تھے کہ میں نے حضرت عمرؓ کی ہچکیاں سنیں اور میں آخری صف میں تھا۔آپ یہ تلاوت کر رہے تھے۔اِنَّمَا أَشْكُوا بَغَى وَحُزْنِى إِلَى الله (ہسٹ :87) یعنی میں تو اپنے رنج و الم کی صرف اللہ کے حضور فریاد کرتا ہوں۔3 اس روایت کو ایک خطبہ میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے بھی بیان فرمایا تھا اور اس کی کچھ تفصیل اپنے الفاظ میں بھی اس طرح بیان کی تھی کہ حضرت عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک دفعہ نماز پڑھارہے تھے اور میں آخری صف میں تھا لیکن حضرت عمر کی گریہ وزاری کی آواز سن رہا تھا۔وہ یہ تلاوت کر رہے تھے۔اِنَّمَا اَشْكُوا بَنِى وَحُزُنَى إِلَى اللهِ (یوسف: 87) کہ میں تو اپنے اللہ ہی کے سامنے اپنے سارے دکھ رویا کروں گا۔کسی اور کے سامنے مجھے ضرورت نہیں ہے۔پس جو ذکر الہی میں گم رہتے ہیں ان کو خدا کے سوا کسی اور کا دربار ملتا ہی نہیں جہاں وہ اپنے غم اور دکھ روئیں اور اپنے سینوں کے بوجھ ہلکے کریں۔یہ روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ پچھلی صف میں تھا وہاں تک مجھے حضرت عمر کے سینے کے گڑ گڑانے کی آواز آرہی تھی۔524 حضرت عمرہ پرانے خدمت کرنے والوں اور قربانی کرنے والوں کا کس طرح خیال رکھا کرتے تھے۔اس بارے میں روایت ہے۔ثعلبہ بن ابو مالک کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کی عورتوں میں سے بعض کو اوڑھنیاں تقسیم کیں۔کوئی اچھی قسم کی اوڑھنیاں آئی تھیں ان میں سے ایک اچھی اوڑھنی بچ گئی۔جو لوگ ان کے پاس تھے ان میں سے کسی نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ یہ رسول اللہ صلی للہ علم کی اس بیٹی کو دیں جو آپ کے پاس ہے۔اس کی مراد حضرت علی کی بیٹی حضرت ام کلثوم نتھیں۔حضرت عمرؓ نے کہا: ایم سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں۔کہا نہیں، ام سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں اور حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حضرت ام سلیط ان انصاری عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی علیم کی بیعت کی تھی۔حضرت عمرؓ نے کہا وہ جنگ احد کے دن ہمارے لیے مشکیں اٹھا کر لاتی تھیں