اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 272
اصحاب بدر جلد 3 272 حضرت عمر بن خطاب واپس گیا اور رونے ہی لگا تھا کہ حضرت عمررؓ بھی میرے پیچھے پیچھے آپہنچے۔رسول اللہ صلی الی الم نے فرمایا اے ابوہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا میں عمر سے ملا تھا اور ان سے جو آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا بیان کیا تو عمر نے مجھے سینے پر زور سے ہاتھ مارا۔میں پشت کے بل گر گیا۔انہوں نے کہا واپس جاؤ۔رسول اللہ صلی للی کم نے فرمایا اے عمر ! تم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عمرؓ نے کہا یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔کیا آپ نے اپنی جوتیوں کے ساتھ ابوہریرہ کو بھیجا تھا کہ جو اسے ملے اور گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کا دل اس بات پر یقین رکھتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دے؟ آپ صلی الیم نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ ایسانہ کیجیے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ پھر اسی پر بھروسہ کرنے لگ جائیں گے۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ ان کو عمل کرنے دیں وہ عمل کریں اور نیکیوں کا جو حکم ہے ، احکامات ہیں ان پر عمل کرنے دیں تاکہ وہ حقیقی مومن بنیں۔نہیں تو یہ صرف اسی بات پر قائم ہو جائیں گے کہ لا الہ الا اللہ کہنا ہی جنت کی بشارت ہے۔رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا: الله سة اچھا رہنے دو۔494 ٹھیک ہے، اسی طرح کرتے ہیں۔بڑی محتاط طبیعت تھی حضرت عمرؓ گی۔حضرت عمر سے ڈر کر شیطان بھی بھاگتا ہے اس بارے میں بھی بعض روایات ہیں۔صحیح بخاری میں ایک روایت ہے۔حضرت سعد بن وقاص روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی علیکم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی اور اس وقت آپ کے پاس قریش کی کچھ عور تیں بیٹھی ہوئی تھیں۔وہ آپ سے باتیں کر رہی تھیں اور آپ سے زیادہ خرچ مانگ رہی تھیں۔ان کی آواز آپ کی آواز سے اونچی تھی۔جب حضرت عمر بن خطاب نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ اٹھ کر جلدی سے پر دے میں چلی گئیں اور اس پر رسول اللہ صلی نیلم نے حضرت عمررؓ کو آنے کی اجازت دی۔حضرت عمر آئے اور رسول اللہ صلی علیکم ہنس رہے تھے۔حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا ر کھے۔نبی صلی الم نے فرمایا: ان عورتوں سے متعجب ہوں جو میرے پاس تھیں۔جب انہوں نے آپ کی آواز سنی جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔حضرت عمر نے کہا یار سول اللہ ! حالا نکہ آپ زیادہ لائق نہیں کہ آپ سے ڈریں۔پھر حضرت عمر نے عورتوں کو مخاطب کیا اونچی آواز میں اور کہنے لگے : اے اپنی جانوں کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی کی کمی سے نہیں ڈر تھیں۔وہ بولیں ہاں آپ تو بڑے سخت مزاج اور سخت دل ہیں۔رسول اللہ صلی ام ایسے نہیں ہیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ تم نے فرمایا: خطاب کے بیٹے سنو۔اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔شیطان جب کبھی بھی تمہارے راستے پر چلتے ہوئے ملا ہے تو ضرور ہی اس نے اپنا وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ لیا ہے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علی کی تشریف فرما تھے کہ ہم نے شور سنا اور بچوں کی آوازیں بھی۔رسول اللہ صلی علی کم کھڑے ہو گئے۔وہاں حبشہ کی ایک عورت تھی جو ناچ کر کرتب دکھارہی تھی اور بچے اس کے ارد گرد جمع تھے۔رسول اللہ صلی یکم نے فرمایا عائشہ آجاؤ اور دیکھ لو۔495