اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 250

اصحاب بدر جلد 3 250 حضرت عمر بن خطاب عرب ہی ہیں۔بلاشبہ محمد صلی علی یکم جو کہ سب سے اہم محرک تھے انہی کو بہت زیادہ ترقیات کا کریڈٹ جاتا ہے مگر حضرت عمرؓ کے کردار کو نظر انداز کرنا بھی بہت بڑی غلطی ہو گی۔آپ کی فتوحات محمد صلی یکم کے اثر میں رہنے کی وجہ سے نتیجہ خود بخود نہیں ہوئی تھیں کچھ وسعت تو مقدر تھی لیکن اس غیر معمولی حد تک نہیں جہاں تک عمر کی شاندار قیادت میں ہوئی۔پھر لکھتا ہے کہ شاید یہ حیرت کا موجب ہو کہ عمرؓ جو مغرب میں ایک نامعلوم شخصیت ہیں کو شارلیمن(Charlemagne) اور جولیس سیز ر جیسی مشہور شخصیات سے بلند تر مر تبہ دیا جائے تاہم عمر کے دور میں عربوں کی فتوحات شارلیمن اور جولیس سیزر کے مقابلے میں بلحاظ حجم اور وقت کے بہت زیادہ اہم ہیں۔424 پھر ایک پروفیسر ہیں فلپ کے ہٹی Philip K Hitti) اپنی کتاب History of the Arabs میں لکھتے ہیں کہ سادہ، کفایت شعار اور آپ میلی لی ایم کے متحرک اور باصلاحیت جانشین عمر جو کہ بلند قامت اور مضبوط جسامت والے اور سر پر کم بالوں والے تھے ، آپ نے خلافت کے بعد کچھ وقت تک تجارت کے ذریعہ گزر بسر کی کوشش کی۔آپ نے اپنی تمام عمر ایک بادیہ نشین شیخ کی طرح سادگی سے گزاری۔در حقیقت عمر کو ، جن کا نام مسلم روایات کے مطابق ابتدائے اسلام میں محمد صلی علیہ کم کے بعد سب سے عظیم تھا، مسلمان مؤرخین نے ان کے تقویٰ، انصاف اور سادگی کے لیے بطور مثال پیش کیا ہے اور خلیفہ کی شخصیت میں ہونے والی تمام خوبیوں کے طور پر پیش کیا ہے۔پھر لکھتا ہے کہ آپ کا بلند و بالا کر دار تمام با ضمیر جانشینوں کے لیے پیروی کا نمونہ بن گیا۔بتایا جاتا ہے کہ آپ کے پاس صرف ایک قمیص اور ایک چوغہ تھا اور دونوں پر پیوند واضح طور پر نظر آتے تھے۔آپ کھجور کے پتوں کے بستر پر سو جاتے۔آپ کو ایمان کی پختگی، انصاف کی بالا دستی، عربوں اور اسلام کے عروج اور سلامتی کے علاوہ کوئی اور خیال نہ تھا۔425 عشرہ مبشرہ میں سے ایک جن لوگوں کو آنحضرت صلیالی تم نے جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی ان میں حضرت عمر بھی تھے۔حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی این نام کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔نبی کریم صلی علیکم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھولو اور اس کو جنت کی بشارت دو۔میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابو بکر ہیں۔میں نے ان کو اس بات کی بشارت دی جو نبی کریم صلی ا لم نے فرمائی تھی۔انہوں نے الْحَمْدُ للہ کہا۔پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔نبی کریم صلی للہ ہم نے فرمایا اس کے لیے دروازہ کھولو اور اس کو جنت کی بشارت دو۔میں نے دروازہ کھولا تو دیکھتا ہوں کہ ح ہ حضرت عمر نہیں۔میں نے ان کو وہ بات بتائی جو نبی کریم صلی علیم نے فرمائی انہوں نے الحمدللہ کہا۔پھر ایک اور