اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 241

محاب بدر جلد 3 241 حضرت عمر بن خطاب عائد نہیں ہوتی لیکن حضرت عثمانؓ ان کی اس رائے سے مطمئن نہیں ہوئے اور بہتر یہی سمجھا کہ خون بہا ادا کیا جائے۔چنانچہ فرمایا: میں ان مقتولین کا ولی ہوں اس لیے خون بہا مقرر کر کے اپنے مال سے ادا کروں گا۔398 اس بارے میں ایک یہ رائے ہے۔تاریخ طبری کے مطابق حضرت عثمانؓ نے حضرت عبید اللہ کو ہر مزان کے بیٹے کے سپر د کر دیا تھا کہ وہ اپنے باپ کے بدلے میں قصاص کے طور پر قتل کر دے لیکن بیٹے نے معاف کر دیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کو بیان فرمایا ہے اور ایک مسئلہ کے حل کے بیان میں اس کی تفصیل میں لکھا ہے جو میں ایک گذشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں تاہم یہاں وضاحت کے لیے دوبارہ بیان کرتا ہوں کہ کیا مقتول کا فر معاہد کے بدلے میں مسلمان قاتل کو سزا دی جا سکتی ہے ؟ معاہد کا فر کے بدلے میں مسلمان قاتل کو سزا دی جاسکتی ہے کہ نہیں؟ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ طبری میں قُهَا ذُبَان بن هُوَ مُزَان اپنے والد کے قتل کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ہر مزان ایک ایرانی رئیس اور مجوسی المذہب تھا اور حضرت عمر خلیفہ ثانی کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا شبہ اس پر کیا گیا تھا۔اس پر بلا تحقیق جوش میں آکر عبید اللہ بن عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا۔وہ بیٹا کہتا ہے کہ ایرانی لوگ مدینہ میں ایک دوسرے سے ملے جلے رہتے تھے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دوسرے ملک میں جا کر وطنیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ایک دن فیروز قاتل جو حضرت عمر کا تھا میرے باپ سے ملا اور اس کے پاس ایک خنجر تھا جو دونوں طرف سے تیز کیا ہوا تھا۔میرے باپ نے ( یہ ھرمز ان کا بیٹا بیان کر رہا ہے) کہ میرے باپ نے اس خنجر کو پکڑ لیا اور اس سے دریافت کیا کہ اس ملک میں تو اس خنجر سے کیا کام لیتا ہے یعنی یہ ملک تو امن کا ملک ہے۔اس میں ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اونٹ ہنکانے کا کام لیتا ہوں۔جب وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے تو اس وقت کسی نے ان کو دیکھ لیا اور جب حضرت عمر مارے گئے تو اس نے بیان کیا کہ میں نے خود ھرمزان کو یہ خنجر فیروز کو پکڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔اس پر عبید اللہ حضرت عمرؓ کے چھوٹے بیٹے نے جا کر میرے باپ کو قتل کر دیا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور عبید اللہ کو پکڑ کر میرے حوالے کر دیا اور کہا کہ اے میرے بیٹے ! یہ تیرے باپ کا قاتل ہے اور تُو ہماری نسبت اس پر زیادہ حق رکھتا ہے۔پس جا اور اس کو قتل کر دیے۔میں نے اس کو پکڑ لیا اور شہر سے باہر نکلا۔راستہ میں جو شخص مجھے ملتا میرے ساتھ ہو جاتا لیکن کوئی شخص مقابلہ نہ کرتا۔وہ مجھ سے صرف اتنی درخواست کرتے تھے کہ میں اسے چھوڑ دوں۔پس میں نے سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا میرا حق ہے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ سب نے جواب دیا کہ ہاں تمہارا حق ہے اسے قتل کر دو، اور عبید اللہ کو بھلا برا کہنے لگے کہ اس نے ایسا بُرا کام کیا ہے۔پھر میں نے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کو حق ہے کہ اسے مجھ سے چھڑالو؟ انہوں نے کہا کہ ہر گز نہیں اور پھر عبید اللہ کو برا بھلا کہا کہ اس نے بلا ثبوت اس کے باپ کو قتل کر دیا۔اس پر میں نے خدا اور ان لوگوں کی خاطر اس کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں رض