اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 236
صحاب بدر جلد 3 236 حضرت عمر بن خطاب تھے بلکہ اس کے لئے دعائیں کرتے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمالیا تو معلوم ہوا کہ اس آیت کے ما تحت ان پر کوئی ایسا خوف نہیں آیا جو ان کے دل نے محسوس کیا ہو اور اس آیت میں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں یہی ذکر ہے کہ خلفاء جس بات سے ڈرتے ہوں گے وہ بھی وقوع پذیر نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا مگر جب وہ ایک بات سے ڈرتے ہی نہ ہوں بلکہ اپنی عزت اور بلندی درجات کا موجب سمجھتے ہوں تو اسے خوف کہنا اور پھر یہ کہنا کہ اسے امن سے کیوں نہ بدل دیا گیا بے معنی بات ہے۔“ یہ نکتہ بھی سمجھنے والا ہے۔39066 آپ فرماتے ہیں کہ ”میں نے تو جب حضرت عمرؓ کی اس دعا کو پڑھا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اس کا بظاہر یہ مطلب تھا کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرے اور اس کا حملہ اتنی شدت سے ہو کہ تمام مسلمان تباہ ہو جائیں۔پھر وہ خلیفہ وقت تک پہنچے اور اسے بھی شہید کر دے۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کی دعا بھی قبول کرلی اور ایسے سامان بھی پیدا کر دیئے جن سے اسلام کی عزت قائم رہی۔چنانچہ بجائے اس کے کہ مدینہ پر کوئی بیرونی لشکر حملہ آور ہو تا اندر سے ہی ایک خبیث اٹھا اور اس نے خنجر سے آپ کو شہید کر دیا۔“ غلاموں کی آزادی کے حوالے سے اسلامی تعلیم بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت عمرؓ کی شہادت کے واقعہ کو لے کر لکھا ہے اور اس کا سبب بیان کیا ہے۔فرمایا کہ ”پہلے تو یہ حکم دیا کہ تم احسان کر کے بغیر کسی تاوان کے ہی ان کو رہا کر دو“ یعنی غلاموں کو بغیر کسی تاوان کے رہا کر دو۔پھر یہ کہا کہ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو تاوان وصول کر کے آزاد کر دو اور اگر کوئی شخص ایسارہ جائے۔“ کوئی غلام ”جو خود تاوان ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کی حکومت بھی اس کے معاملہ میں کوئی دلچسپی۔“ اور جہاں سے وہ آیا ہے جس حکومت کا وہ فرد ہے اس کو آزاد کرانے میں اس کی حکومت بھی کوئی دلچپسی نہ لیتی ہو اور اس کے رشتہ دار بھی لاپر واہ ہوں تو وہ تم کو نوٹس دے کر اپنی تاوان کی قسطیں مقرر کروا سکتا ہے۔“ پھر وہ خود قیدی جو ہے وہ اپنی تاوان کی قسطیں مقرر کروا سکتا ہے۔”ایسی صورت میں جہاں تک اس کی کمائی کا تعلق ہے قسط چھوڑ کر سب اسی کی ہو گی اور وہ عملاً پورے طور پر آزاد ہو گا۔“ یعنی جتنی کمائی وہ کرے گا اس میں سے وہ قسط ادا کرے گا جو اس نے آزادی کے لیے رکھی ہے اور باقی آمد اس کی اپنی ہے اور یہ ایک طرح کی آزادی ہے۔”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے غلام نے ہی مارا تھا جس نے مکاتبت کی ہوئی تھی۔وہ غلام جس مسلمان کے پاس رہتا تھا ان سے ایک دن اس نے کہا کہ میری اتنی حیثیت ہے، آپ مجھ پر تاوان ڈال دیں۔میں ماہوار اقساط کے ذریعہ آہستہ آہستہ تمام تاوان ادا کر دونگا۔انہوں نے ایک معمولی سی قسط مقرر کر دی اور وہ ادا کر تا رہا۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس نے شکایت کی کہ میرے مالک نے مجھ پر بھاری قسط مقرر کر رکھی ہے آپ اسے کم کرا دیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے