اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 222
ناب بدر جلد 3 222 حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کسی عورت کی ایک بیٹی بیمار ہو گئی۔حضرت مصلح موعود واقعہ سنارہے ہیں کہ موت سے لوگ کس طرح ڈرتے ہیں۔اس ڈرنے کا ایک واقعہ اس طرح ہے ، ایک کہانی ہے کہ کسی عورت کی بیٹی بیمار ہو گئی۔وہ دعائیں کرتی تھی خدایا میری بیٹی بچ جائے اور اس کی جگہ میں مر جاؤں۔بہت پیار کا اظہار کر رہی تھی بیٹی سے۔ایک رات اتفاق سے اس عورت کی گائے کی رسی کھل گئی اور اس نے ایک برتن میں منہ ڈالا۔گائے نے بر تن میں منہ ڈال دیا جس میں اس کا سر پھنس گیا اور وہ اسی طرح گھڑ سر پر اٹھا کر ادھر ادھر بھاگنے لگی۔گائے پریشان ہو گئی، سر پھنس گیا، بھاگنے لگی۔یہ دیکھ کر کہ گائے کے جسم پر منہ کی بجائے کوئی اور بڑی سی چیز ہے وہ عورت ڈر گئی۔اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ یہ کیا ہے ؟ گائے بھاگ رہی ہے اور اس کے منہ پر کوئی اور چیز نظر آرہی ہے۔وہ ڈر گئی۔اس نے سمجھا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے اور عزرائیل میری جان نکالنے کے لیے آیا ہے۔اس پر بے اختیار بول اٹھی کہ عزرائیل بیمار میں نہیں ہوں بلکہ وہ لیٹی ہے۔اس کی جان نکال لے یعنی بیٹی کی طرف اشارہ کیا۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ جان اتنی پیاری چیز ہے کہ اسے بچانے کے لیے انسان ہر ممکن تدبیر کرتا ہے۔کہاں تو یہ تھا کہ دعا کر رہی تھی۔کہاں جب دیکھا کہ واقعی کوئی ایسا خطرہ پیدا ہو گیا ہے تو بیٹی کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس کی جان نکال لو۔فرماتے ہیں انسان ہر ممکن تدبیر کرتا ہے جان بچانے کے لیے۔علاج کراتے کراتے کنگال ہو جاتا ہے لیکن صحابہ کرام کو یہی جان خدا تعالیٰ کے لیے دینے کی اس قدر خواہش تھی کہ حضرت عمر دعائیں کرتے تھے کہ مجھے مدینہ میں شہادت نصیب ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ حضرت عمر کی یہ دعا کس قدر خطر ناک تھی۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دشمن مدینہ پر چڑھ آئے اور مدینہ کی گلیوں میں حضرت عمرؓ کو شہید کر دے لیکن خدا تعالیٰ نے ان کی دعا کو اور رنگ میں قبول کر لیا اور وہ ایک مسلمان کہلانے والے کے ہاتھوں سے ہی مدینہ میں شہید کر دیے گئے۔کہا یہی جاتا ہے کہ شہید کرنے والا کافر تھا لیکن بعض جگہ یہ بھی روایت مل جاتی ہے کہ شاید مسلمان کہلاتا تھا لیکن بہر حال عمومی طور پر یہی ہے کہ وہ کافر تھا۔پہلی دفعہ حضرت مصلح موعودؓ نے کا فر بیان کیا ہے دوسری جگہ مسلمان کہلانے والا کہا ہے۔یعنی کہ خود بھی پوری طرح تسلی نہیں ہے کہ مسلمان تھا کہ نہیں۔اور بعض کے نزدیک وہ شخص مسلمان نہ تھا۔ہاں خود ہی یہ فرمارہے ہیں کہ بعض کے نزدیک وہ شخص مسلمان نہ تھا۔بہر حال وہ ایک غلام تھا جس سے خدا تعالیٰ نے حضرت عمر کو شہید کر ادیا تو انسان خود جن چیزوں کو چاہتا ہے اور خواہش رکھتا ہے وہ اس کے لیے مصیبت نہیں ہو تیں۔375 حضرت عمر کی وفات اور بعض صحابہ کا رویا حضرت مصلح موعودؓ نے یہ واقعہ بھی ایک خطبہ میں بیان فرمایا تھا۔حضرت عمر کی شہادت اور وفات کے متعلق صحابہ کرام کار دیا۔