اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 216

تاب بدر جلد 3 216 حضرت عمر بن خطاب اس لیے اس اختلاف کا اثر مذہبی خیالات تک محدود نہ تھا بلکہ اس کی وجہ سے خود سلطنت کمزور ہوتی جاتی تھی۔علامہ اس موقف کی تردید کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں جو یورپین مؤرخین کی رائے ابھی بیان ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ جواب گو واقعیت سے بالکل خالی نہیں ہے لیکن جس قدر واقعیت ہے اس سے زیادہ طرز استدلال کی ملمع سازی ہے جو یورپ کا خاص انداز ہے۔بے شبہ اس وقت فارس اور روم کی سلطنتیں اصلی عروج پر نہیں رہی تھیں لیکن اس کا صرف اس قدر نتیجہ ہو سکتا تھا کہ وہ پر زور قوی سلطنت کا مقابلہ نہ کر سکتیں نہ یہ کہ عرب جیسی بے سر و سامان قوم سے ٹکرا کر پرزے پرزے ہو جاتیں۔روم اور فارس فنون جنگ میں ماہر تھے۔یونان میں خاص قواعد حرب پر جو کتابیں لکھی گئی تھیں اور جو آب تک موجود ہیں رومیوں میں ایک مدت تک اس کا عملی رواج رہا۔اس کے ساتھ رسد کی فراوانی تھی۔سر و سامان کی بہتات تھی۔آلات جنگ کا تنوع تھا۔مختلف قسم کی چیزیں تھیں۔فوجوں کی کثرت میں کمی نہیں آئی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ملک پر چڑھ کر جانانہ تھا بلکہ اپنے ملک میں اپنے قلعوں میں اپنے مورچوں میں رہ کر اپنے ملک کی حفاظت کرنی تھی۔مسلمانوں کے حملے سے ذرا ہی پہلے خسرو پرویز کے عہد میں جو ایران کی شان و شوکت کا عین شباب تھا قیصر روم نے ایران پر حملہ کیا اور ہر ہر قدم پر فتوحات حاصل کرتا ہوا اصفہان تک پہنچ گیا۔شام کے صوبے جو ایرانیوں نے چھین لیے تھے واپس لے لیے اور نئے سرے سے نظم و نسق قائم کیا۔ایران میں خسرو پرویز تک عموما مسلم ہے کہ سلطنت کو نہایت جاہ و جلال تھا۔خسرو پرویز کی وفات سے اسلامی حملے تک صرف تین چار برس کی مدت ہے۔اتنے تھوڑے عرصہ میں ایسی قوم اور قدیم سلطنت کہاں تک کمزور ہو سکتی تھی۔البتہ تخت نشینوں کی ادل بدل یسے نظام میں فرق آگیا تھا لیکن چونکہ سلطنت کے اجزا یعنی خزانہ ، فوج اور محاصل میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اس لیے جب یزدگرد تخت نشین ہوا اور درباریوں نے اصلاح کی طرف توجہ کی تو فورانئے سرے سے وہی ٹھاٹھ قائم ہو گئے۔مُزد کیہ فرقہ گوایران میں موجود تھا لیکن ہمیں تمام تاریخ میں ان سے کسی قسم کی مدد ملنے کا حال معلوم نہیں ہوتا۔یعنی مسلمانوں کو کوئی مدد ملی ہو۔اسی طرح فرقہ نسطوری کی کوئی اعانت ہمیں معلوم نہیں۔نسطوری عیسائیوں کا ایک فرقہ ہے جس کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کی ذات میں الوہیت اور بشریت دونوں علیحدہ علیحدہ پائی جاتی تھیں۔عیسائیت کے اختلاف مذہب کا اثر بھی کسی واقعہ پر خود یورپین مؤرخوں نے کہیں نہیں بتایا۔اب عرب کی حالت دیکھو۔تمام فوجیں جو مصر اور ایران اور روم کی جنگ میں مصروف تھیں ان کی مجموعی تعداد بھی ایک لاکھ تک نہ پہنچی۔فنونِ جنگ سے واقفیت کا یہ حال تھا کہ پر موک پہلا معرکہ ہے جس میں عرب نے تنبیہ کی طرز پر صف آرائی کی۔تعبیہ جنگ کے وقت فوج کی ایسی ترتیب جس میں سپه سالار یا بادشاہ جو لشکر کی کمان کرتا ہے تمام فوج کے درمیان میں کھڑا ہوتا ہے۔اس کو ترتیب تغییہ کہتے ہیں۔خود، زرہ، چلته (لوہے یا فولاد کی پوشاک) جوشن ( زرہ کی ایک قسم) بکتر ، چار آئینہ (فولاد کی