اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 182
اصحاب بدر جلد 3 182 حضرت عمر بن خطاب ہوئے پاؤں سنبھل گئے۔ساتھ ہی عجاجج و قبیلہ زبیدہ کے سردار تھے ، پانچ سو آدمی لے کر بڑھے اور عیسائیوں کو جو مسلمانوں کا تعاقب کرتے چلے آتے تھے روک لیا۔میمنہ میں قبیلہ آزد شروع حملہ سے ثابت قدم رہا۔عیسائیوں نے لڑائی کا سارا زور ان پر ڈالا لیکن وہ پہاڑ کی طرح جھے رہے۔جنگ میں یہ شدت تھی کہ فوج میں ہر طرف سر ، ہاتھ ، بازو کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے لیکن ان کے پایہ ثبات کو لغزش نہیں آتی تھی۔عمر و بن طفیل جو قبیلہ کے سردار تھے تلوار مارتے جاتے تھے اور للکارتے جاتے تھے کہ از دیو! دیکھنا مسلمانوں پر تمہاری وجہ سے داغ نہ آئے۔نو بڑے بڑے بہادر ان کے ہاتھ سے مارے گئے اور آخر خود بھی وہ شہید ہوئے۔حضرت عکرمہ بن ابو جہل کی شجاعت حضرت خالد نے اپنی فوج کو پیچھے لگا رکھا تھا۔دفعہ صف چیر کر نکلے اور اس زور سے ے حملہ کیا کہ رومیوں کی صفیں پلٹ دیں۔عکرمہ نے جو ابو جہل کے فرزند تھے گھوڑا آگے بڑھایا اور کہا عیسائیو! میں کسی زمانے میں کفر کی حالت میں خود رسول اللہ صلی الیہ کمی سے لڑ چکا ہوں۔کیا آج تمہارے مقابلے میں میر اپاؤں سکتا ہے۔یہ کہہ کر فوج کی طرف دیکھا اور کہا مرنے پر کون بیعت کرتا ہے ! چار سو شخصوں نے جن میں ضرار بن آزد بھی تھے مرنے پر بیعت کی اور اس ثابت قدمی سے لڑے کہ قریباً سب کے سب وہیں کٹ کر رہ گئے۔عکرمہ کی لاش مقتولوں کے ڈھیر میں ملی۔کچھ کچھ دم باقی تھا۔خالد نے اپنی رانوں پر ان کا سر رکھا اور گلے میں پانی ٹپکا کر کہا خدا کی قسم ! عمر کا گمان غلط تھا کہ ہم شہید ہو کر نہ مریں گے۔غرض عکرمہ اور ان کے ساتھی کو خود ہلاک ہو گئے لیکن رومیوں کے ہزاروں آدمی برباد کر دیے۔خالد کے حملوں نے اور بھی ان کی طاقت توڑ دی یہاں تک کہ آخر ان کو پیچھے ہٹنا پڑا اور خالد ان کو دباتے ہوئے سپہ سالار دُر نجاز تک پہنچ گئے۔دُر نجار اور رومی افسروں نے آنکھوں پر رومال ڈال لیے کہ اگر یہ آنکھیں فتح کی صورت نہ دیکھ سکیں تو شکست بھی نہ دیکھیں۔عین اسی وقت جب ادھر میمنہ میں بازارِ قتال گرم تھا تو ابن قناطير ، جو رومیوں کے میمنہ کا سردار تھا، نے میسرہ پر حملہ کیا۔بد قسمتی سے اس حصہ میں اکثر تخم وغشان کے قبیلے کے آدمی تھے جو شام کے اطراف میں بودو باش رکھتے تھے اور ایک مدت سے روم کے باج گزار تھے۔رومیوں کو ٹیکس دیا کرتے تھے تو رومیوں کا جو رعب ان کے دلوں میں سمایا ہوا تھا اس کا یہ اثر ہوا کہ پہلے ہی حملے میں ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔مسلمان ہونے کے باوجود بھی وہ پر انار عب چل رہا تھا اس سے خوفزدہ ہو گئے ، پاؤں اکھڑ گئے لیکن بہر حال افسروں نے بھی جرآت دکھائی۔اگر افسروں نے بے ہمتی کی ہوتی تو لڑائی کا خاتمہ ہو چکا ہو تا۔رومی بھاگتے ہوؤں کا پیچھا کرتے ہوئے خیموں تک پہنچ گئے۔عور تیں یہ حالت دیکھ کر بے اختیار نکل پڑیں اور ان کی پامردی نے