اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 181

حاب بدر جلد 3 181 حضرت عمر بن خطاب آدمیوں نے پاؤں میں بیڑیاں پہن لیں کہ ہٹنے کا خیال تک نہ آئے اور اپنے پاؤں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا۔جنگ کی ابتدا رومیوں کی طرف سے ہوئی۔ہند زوجہ ابوسفیان کی بہادری دولاکھ کاٹڈی دل لشکر ایک ساتھ بڑھا۔ہزاروں پادری اور بشپ ہاتھوں میں صلیب لیے آگے بڑھے اور حضرت عیسی کی جے پکارتے آتے تھے۔یہ ساز و سامان دیکھ کر ایک شخص کی زبان سے بے اختیار نکلا کہ اللہ اکبر ! کس قدر بے انتہا فوج ہے۔حضرت خالد نے جوش سے کہا چپ رہ۔خدا کی قسم ! میرے گھوڑے کے سم اچھے ہوتے تو میں کہہ دیتا کہ عیسائی اتنی ہی فوج اور بڑھا لیں۔غرض عیسائیوں نے نہایت زور شور سے حملہ کیا اور تیروں کا مینہ برساتے بڑھے۔مسلمان دیر تک ثابت قدم رہے لیکن حملہ اس زور کا تھا کہ مسلمانوں کا میمنہ ٹوٹ کر فوج سے الگ ہو گیا اور نہایت بے ترتیبی سے پیچھے ہٹا۔ہزیمت یافتہ ہٹتے ہٹتے عورتوں کے خیمہ گاہ تک پہنچ گئے۔عورتوں کو مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر سخت غصہ آیا اور خیمہ کی لکڑیاں اکھاڑ لیں اور پکار ہیں کہ نامرادو! ادھر آئے تو لکڑیوں سے تمہارے سر توڑ دیں گی۔ہند ابوسفیان کی بیوی ہاتھوں میں لاٹھی لے کر آگے بڑھی۔دیگر خواتین بھی ان کے پیچھے پیچھے آگے بڑھیں۔ہند نے ابوسفیان کو بھاگتے دیکھا تو ان کے گھوڑے کے منہ پر میخ مارتے ہوئے کہا کہ کدھر جارہے ہو ؟ واپس آؤ اور جنگ کے میدان میں جاؤ۔اسی طرح ایک اور روایت ہے اس کے مطابق ہند لکڑی اٹھا کر ابوسفیان کی طرف لپکیں اور کہا کہ خدا کی قسم اتم دین حق کی مخالفت کرنے اور خدا کے سچے رسول کو جھٹلانے میں بہت سخت تھے۔آج موقع ہے کہ میدانِ جنگ میں دین حق کی سربلندی اور رسولِ خدا کی خوشنودی کے لیے اپنی جان قربان کر دو اور خدا کے سامنے سر خرو ہو جاؤ۔ابو سفیان کو سخت غیرت آئی اور پلٹ کر شمشیر بدست دشمن کے ٹڈی دل لشکر میں گھس گیا۔ایک اور بہادر مسلمان عورت جن کا نام خولہ تھاوہ یہ شعر پڑھ کر لوگوں کو غیرت دلاتی تھیں کہ يَا هَارِبًا عَنْ نِسْوَةٍ تَقِيَّاتِ فَعَنْ قَلِيْلٍ مَا تَرَى سَبِيَّاتٍ وَلَا حَظِيَّاتٍ وَلَا رَضِيَّاتِ کہ اے تقوی شعار عورتوں سے بھاگنے والے عنقریب تو انہیں قیدی دیکھے گا۔نہ وہ بلند مرتبہ پر ہوں گے اور نہ ہی وہ پسندیدہ ہوں گے۔یہ حالت دیکھ کر مُعاذ بن جبل جو میمنہ کے ایک حصہ کے سپہ سالار تھے ، گھوڑے سے کود پڑے اور کہا کہ میں تو پیدل لڑتا ہوں لیکن کوئی بہادر اس گھوڑے کا حق ادا کر سکے تو گھوڑا حاضر ہے۔ان کے بیٹے نے کہا کہ ہاں یہ حق میں ادا کروں گا کیونکہ میں سوار ہو کر اچھا لڑ سکتا ہوں۔غرض دونوں باپ بیٹے فوج میں گھس گئے اور دلیری سے جنگ کی کہ مسلمانوں کے اکھڑے