اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 168

محاب بدر جلد 3 168 حضرت عمر بن خطاب لیا۔یہ شَنَش دراصل تُو ذرا کی مدد اور حمص والوں کے بچاؤ کے لیے آیا تھا۔وہ ایک کنارے پر اپنے لشکر کے ساتھ فروکش ہو گیا۔جب رات آئی تو ان کا دوسر اسپہ سالار تُو ذرا وہاں سے روانہ ہو گیا اور اس کے جانے کی وجہ سے وہ جگہ خالی ہو گئی۔تو ذرا کے مد مقابل حضرت خالد بن ولید تھے جبکہ شنس کے مقابلے میں حضرت ابوعبیدہ تھے۔حضرت خالد بن ولید کو جب اس بات کی خبر ملی کہ تُؤذَرا یہاں سے دمشق روانہ ہو چکا ہے تو حضرت خالد اور حضرت ابو عبیدہ نے باتفاق رائے اس بات کا فیصلہ کیا کہ تُوذَرا کے تعاقب میں حضرت خالد روانہ ہو جائیں۔چنانچہ حضرت خالد بن ولید گھڑ سواروں کا ایک دستہ لے کر اسی رات اس کے تعاقب میں چل پڑے۔ادھر یزید بن ابو سفیان کو تو ذرا کی اس حرکت کی خبر مل گئی تھی۔چنانچہ وہ تُو ذرا کے مقابلے پر آگئے اور دونوں لشکروں میں جنگ کا میدان گرم ہو گیا۔ابھی دونوں کے درمیان لڑائی جاری تھی کہ پیچھے سے حضرت خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے تُو ذرا کی پشت سے ہلہ بول دیا۔نتیجہی کشتوں کے پشتے لگ گئے اور دشمن سامنے اور پیچھے دونوں طرف سے مارا گیا۔مسلمانوں نے ان کو موت کی نیند سلا دیا۔ان میں سے زندہ صرف وہی بچے جنہوں نے راہ فرار اختیار کر لی۔مسلمانوں کو اس معرکے میں جو مالِ غنیمت ہاتھ آیا اس میں سواری کے جانور ، ہتھیار ، لباس وغیرہ تھے۔اس کو حضرت یزید بن ابو سفیان نے اپنے اور حضرت خالد بن ولیڈ کے سپاہیوں میں بانٹ دیا۔اس کے بعد حضرت یزید دمشق کی جانب روانہ ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید حضرت ابوعبیدہ کی جانب واپس چلے گئے۔اسلام کی تاریخ میں جو بد نام یزید ہے وہ معاویہ کے بیٹے تھے اور یہ یزید ابوسفیان کے بیٹے یزید ہیں۔تو خدا جو رومیوں کا سردار تھا، اس کو حضرت خالد بن ولید نے قتل کیا تھا۔حضرت خالد بن ولید جب تُو ذرا کے تعاقب میں روانہ ہو گئے تو حضرت ابو عبیدہ نے شنس کا مقابلہ کیا۔دونوں فوجوں میں مزج الروم کے مقام پر جنگ چھڑ گئی۔اسلامی لشکر نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور حضرت ابو عبیدہ نے شکش کا کام تمام کر دیا۔مزج الروم دشمن کی لاشوں سے بھر گیا۔ان لاشوں کی بنا پر وہ مقام بدبودار ہو گیا تھا۔رومیوں میں سے جو بھاگ گئے وہ تو بچ گئے۔باقی کوئی موت کے منہ سے نہ بچ سکا۔مسلمانوں نے بھاگنے والوں کا حمص تک پیچھا کیا۔" پھر حضرت ابوعبيده فوج لے کر حماة کی طرف روانہ ہوئے۔حماۃ بھی شام کا ایک قدیم شہر ہے جو اس وقت دمشق سے پانچ روز کی مسافت پر واقع تھا۔اہل حماۃ نے ان کے آگے سر اطاعت خم کر دیا، تسلیم کر لیا۔شیزر والوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے بھی اہل حماۃ کی مانند صلح کر لی۔شَيُور حماة سے نصف روز کی مسافت پر واقع ایک بستی تھی۔پھر حضرت ابوعبیدہ نے سلمیه کو فتح کیا۔سلمیہ بھی عمات سے دو دن کی مسافت پر واقع ایک بستی تھی۔307 308 رض