اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 167

اصحاب بدر جلد 3 رض 167 حضرت عمر بن خطاب در میان شام میں واقع ہے۔حمص میں ایک بڑا ہیکل تھا جس کی زیارت کے لیے دور دور سے لوگ آتے اور اس کے پجاری بننے پر فخر محسوس کرتے۔بہر حال حمص کے قریب رومیوں نے ہی خود بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا اور آگے بڑھے۔چنانچہ ایک فوج کثیر حمص سے نکل کر جو سیہ میں مسلمانوں کے مقابل ہوئی لیکن ان کو شکست ہوئی۔حضرت ابو عبیدہ اور حضرت خالد بن ولید نے حمص پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔سخت سردی کا موسم تھا۔رومیوں کو یقین تھا کہ مسلمان کھلے میدان میں دیر تک نہیں لڑ سکیں گے۔اس کے ساتھ ھر قل کی طرف سے مدد کی امید بھی تھی۔چنانچہ اس نے جزیرے سے ایک فوج بھی روانہ کی لیکن حضرت سعد بن ابی وقاص نے جو عراق کی مہم پر مامور تھے کچھ فوج اس لشکر کی طرف بھیج دی جس نے اس لشکر کو وہیں روک لیا۔304 مؤرخین نے لکھا ہے کہ رومیوں کے پاؤں میں چمڑے کے موزے ہوتے تھے پھر بھی ان کے پاؤں شل ہو جاتے جبکہ صحابہ کے پاؤں یا مسلمانوں کی جو فوج تھی ان کے پاؤں میں جوتوں کے علاوہ کچھ ہیں ہو تا تھا۔15 هر قل اہل حمص سے مدد کا وعدہ کر کے اور انہیں مقابلے کی ہمت دلا کر خو دڑھاء چلا گیا۔وعدہ کیا اور خود وہاں سے چلا گیا۔حمص والے قلعہ بند ہو کر بیٹھ رہے۔وہ اسی دن مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نکلتے جس دن سخت سردی ہوتی۔رومی ہر قل کی مدد کے انتظار میں تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان سردی سے عاجز آکر بھاگ جائیں لیکن مسلمانوں نے ثبات قدم دکھایا اور ہر قل کی مدد بھی ان کو نہ پہنچی یعنی اس شہر کے لوگوں کو اور سردی کے دن بھی گزر گئے تو اہل حمص کو یقین ہو گیا کہ اب ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ انہوں نے صلح کی درخواست کی۔مسلمانوں نے اسے قبول کر لیا اور شہر کے سارے مکان اہل شہر کے لیے چھوڑ دیے گئے اور دمشق کی طرح خراج اور جزیہ پر صلح کر لی گئی۔حضرت ابوعبیدہ نے حضرت عمر کو تمام واقعات سے مطلع کیا جس کے جواب میں حضرت عمر کا حکم آیا کہ تم ابھی وہیں ٹھہر و اور شام کے طاقتور قبائل عرب کو اپنے جھنڈے تلے جمع کرو۔میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ برابر یہاں سے کمک بھیجتا رہوں گا۔306 رض پھر مرج الروم ایک جگہ ہے اسی سال مَرجُ الرُّوم کا واقعہ پیش آیا۔مَرجُ الرُّوم دِمَشْق کے قریب ایک مقام تھا۔واقعہ یہ ہوا کہ حضرت ابو عبیدہ فحل سے حمص جانے کے لیے حضرت خالد بن ولید کے ساتھ روانہ ہوئے۔سب نے ذُو العلّاع مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ان کی اس نقل و حرکت کی اطلاع ہر قل کو ہوئی تو اس نے تُو ذَر ابطریق کو روانہ کیا۔وہ مرج دمشق اور اس کی مغربی جانب میں قیام پذیر ہوا۔ابوعبیدہ نے مَرجُ الرُّوم اور اس کے لشکر سے ابتدا کی۔اس وقت ان کی یعنی مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ سردی کا موسم آچکا تھا اور ان کے جسم زخموں سے بھرے ہوئے تھے۔جب یہ لوگ مرج الروم پہنچے تو شنش رومی بھی ادھر آگیا اور تو ذرا کے قریب ہی شاہ سواروں کے ساتھ اس نے پڑاؤ ڈال