اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 166
حاب بدر جلد 3 166 حضرت عمر بن خطاب حضرت عمرؓ کی سیرت و سوانح لکھنے والے دو سیرت نگار ہیکل اور صلابی نے یہ تعداد اسی ہزار سے ایک لاکھ تک بھی بیان کی ہے۔بہر حال ایک گھنٹے کی شدید جنگ ہوئی۔اس کے بعد رومی لشکر کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ نہایت بد حواسی سے بھاگے۔بعد میں حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ تمام زمین جو قبضے میں کی گئی ہے ان کے مالکوں کے پاس ہی رہے گی۔کوئی زمین کسی سے لی نہیں جائے گی اور لوگوں کی جانیں اور مال اور زمین اور مکانات اور عبادت گاہیں سب محفوظ رہیں گی۔صرف مساجد کے لیے جگہ لی جائے گی۔کوئی زمین اگر لینی ہے تو مساجد کے لیے لینی ہے۔باقی زمینیں ان کے مالکوں کے پاس ہی رہیں گی۔302 301 پھر فتح بيسان کا بیان ہے۔جب شتر خبیل فحل کی جنگ سے فراغت پاچکے تو وہ اپنی فوج اور عمر و کولے کر اہل بیسان کی طرف بڑھے اور ان کا محاصرہ کر لیا۔اس وقت ابو الاعور اور ان کے ساتھ چند اور سردار طبریہ کا محاصرہ کیسے ہوئے تھے۔بیسان طبریہ کے جنوب میں اٹھارہ میل کے فاصلے پر واقع جگہ ہے۔اردن کے علاقوں میں دمشق اور اس کے بعد کی دیگر مہمات میں رومیوں کی پے در پے شکستوں کی خبر پھیل چکی تھی اور لوگوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ شتر خبیل اور ان کے ساتھ عمر و بن العاص اور حارث بن ہشام اور سہیل بن عمر و اپنی فوج کو لیے ہوئے بیسان کے ارادے سے جارہے ہیں اس لیے ہر جگہ لوگ قلعہ میں جمع ہو گئے۔شتر خبیل نے بیسان پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا جو چند روز تک جاری رہا مگر بعد میں وہاں کے کچھ لوگ مقابلے کے لیے باہر نکلے۔مسلمان ان سے لڑے اور ان کا خاتمہ کر دیا۔باقی لوگوں نے مصالحت کی درخواست کی جس کو مسلمانوں نے دمشق کی شرائط پر منظور کر لیا۔جو فتح دمشق کی شرائط تھیں اسی بنیاد پر وہ بھی منظور ہوئیں۔02 پھر فتح طبریہ ہے۔جب اہل طبریہ کو بیسان کی فتح اور اس کے معاہدہ کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے ابوالاً غور سے اس شرط پر صلح کی کہ ان کو شتر خبیل کی خدمت میں پہنچا دیا جائے۔ابو الاعور نے ان کی درخواست کو منظور کر لیا۔چنانچہ اہل طبریہ اور اہل بیسان سے دمشق والی شرائط پر ہی مصالحت ہو گئی اور یہ بھی طے ہوا کہ شہروں اور اس کے قریبی دیہات کی آبادیوں کے تمام مکانات میں سے آدھے مسلمانوں کے لیے خالی کر دیے جائیں اور باقی نصف میں خود رومی رہائش اختیار کریں اور وہ فی کس سالانہ ایک دینار اور زمین کی پیداوار میں سے معین حصہ ادا کریں گے۔اس کے بعد مسلمان قائدین اور ان کی فوجیں آبادی میں مقیم ہو گئیں اور اردن کی صلح پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور تمام امدادی دستے اردن کے علاقے میں مختلف مقامات میں سکونت پذیر ہو گئے اور فتح کی بشارت، خوشخبری حضرت عمر کی خدمت میں روانہ کر دی گئی۔پھر فتح نص، یہ چودہ ہجری میں ہوئی۔اس کے بعد حضرت ابوعبیدہ نے حمص کی طرف پیش قدمی کی جو شام کا ایک مشہور شہر تھا اور جنگی اور سیاسی اہمیت رکھتا تھا۔حمص دمشق اور حلب کے 303