اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 136

صحاب بدر جلد 3 136 حضرت عمر بن خطاب کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی ال یکم اس کا بندہ اور اس کے رسول ہیں۔حضرت عمرؓ نے ھرمزان سے پوچھا کہ تو پہلے کیوں نہ ایمان لے آیا۔اس پر ھرمزان نے کہا کہ اے امیر المومنین ! مجھے ڈر تھا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ میں تلوار کے ڈر سے، کیونکہ تلوار میرے سر پر رکھی ہوئی تھی، اس کے ڈر سے مسلمان ہوا ہوں۔اس کے بعد حضرت عمر هرمزان سے ایران پر لشکر کشی میں مشورہ کیا کرتے تھے اور اس کی رائے کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔223 پھر وہ حضرت عمر کا مشیر بھی بن گیا۔یہ بھی شبہ کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر کی شہادت میں ھرمزان کا ہاتھ تھا۔224 لیکن حضرت مصلح موعود اس شبہ کو درست نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ قصاص کی آیت کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علیم کے پاس ایک مسلمان لایا گیا جس نے ایک معاہد کا فیر کو جو اسلامی حکومت کی رعایا بن چکا تھا قتل کر دیا تھا۔جس سے معاہدہ ہوا ہوا تھا، عہد ہوا ہوا تھا اس کا قتل کر دیا تھا تو آپ نے اس کے قتل کیے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں عہد پورا کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ بد کی نگہداشت کرنے والا ہوں۔جس سے عہد کیا اس کو کیوں قتل کیا، اس لیے سزا ہے۔مسلمان کو عہد بھی قتل کیا گیا۔اسی طرح طبرانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت روایت کی ہے کہ ایک مسلمان نے ایک زمی کو قتل کر دیا تو آپ نے اس مسلمان کے قتل کیے جانے کا حکم دیا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ لا يُقْتَلُ مُؤْمِن بِحافِر کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا مگر ساری حدیث دیکھنے سے بات حل ہو جاتی ہے۔حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں کہ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرِ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ۔اس حدیث کا یہ دوسرا فقرہ کہ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِہ اس کے معنوں کو حل کر دیتا ہے کہ اگر اس کے یہ معنے ہوں کہ کافر کے بدلہ میں مسلمان نہ مارا جائے تو پھر ذُوعَهْدٍ کے یہ معنے کرنے ہوں گے کہ وَلَا ذُو عَهْد بكافر کہ کسی ذو عہد کو بھی کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے۔حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔پس یہاں کا فر سے مراد محارب کا فر ہے نہ کہ عام کا فر۔جنگ کرنے والے کافر (مراد) ہیں نہ کہ عام کافر۔تبھی فرمایا کہ ذمی کافر بھی محارب کافر کے بدلہ میں نہیں مارا جائے گا۔اب ہم صحابہ کا طریق عمل دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ بھی غیر مسلم کے قاتل کو قتل کی سزا ہی دیتے تھے۔چنانچہ طبری میں قمنا بان بن ہرمز ان اپنے والد کے قتل کا واقعہ بیان کرتا ہے که هرمزان ایک ایرانی رئیس اور مجوسی المذہب تھا اور حضرت عمر خلیفہ ثانی کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا شبہ اس پر کیا گیا۔اس پر بلا تحقیق جوش میں آکر عبید اللہ بن عمر نے اس کو قتل کر دیا۔وہ کہتا ہے کہ ایرانی لوگ مدینہ میں ایک دوسرے سے ملے جلے رہتے تھے۔جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دوسرے ملک میں جاکر وطنیت نمایاں ہو جاتی ہے تو ایک دن فیروز جو حضرت عمر کا قاتل تھا، میرے باپ سے ملا اور اس کے پاس ایک خنجر تھا جو دونوں طرف سے تیز کیا ہوا تھا۔میرے باپ نے اس خنجر کو پکڑ لیا اور