اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 134

اصحاب بدر جلد 3 134 حضرت عمر بن خطاب میں پھر ا۔پھر وہ شہر کے دروازے پر گیا جہاں پہرے دار موجود تھے پھر وہ ھرمزان کے پاس پہنچا جو کہ اپنے محل کے دروازے پر مجلس لگائے بیٹھا تھا۔یہ سب دکھانے کے بعد وہ اس کو اسی راستہ سے واپس لے آیا۔اشرس بن عوف نے واپس پہنچ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو سب کچھ بتایا۔اشرس بن عوف نے کہا کہ آپ میرے ساتھ دو سو بہادر بھیج دیں میں پہرے داروں کو قتل کر کے دروازہ کھلوا دوں گا اور آپ باہر سے دروازے سے ہمارے ساتھ مل جائیں۔اس طرح اشرش بن عوف اپنے ساتھیوں سمیت اس خفیہ رستے سے شہر میں داخل ہوئے اور پہرے داروں کو قتل کر کے شہر کے دروازے کھول دیے۔سپہ سالار ھر مزان کا گرفتار ہو کر حضرت عمرؓ کے دربار خلافت میں پیش ہونا اسلامی لشکر اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتا ہوا شہر میں داخل ہوا۔ھرمزان نعروں کی آواز سن کر اپنے قلعہ کی طرف بھا گا جو کہ اس شہر کے اندر ہی موجود تھا۔مسلمانوں نے قلعہ کو گھیر لیا۔ھرمزان اوپر سے دیکھ کر بولا کہ میرے ترکش میں سو تیر ہیں۔جب تک ان میں سے ایک تیر بھی باقی ہے مجھے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔اس کے بعد اگر میں گرفتار ہوا تو میری گرفتاری کے کیا کہنے۔مسلمانوں نے کہا کہ پھر تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس شرط پر ہتھیار ڈالتا ہوں کہ میرا فیصلہ حضرت عمر پر چھوڑ دیا جائے۔ھرمزان نے ہتھیار پھینک دیے اور خود کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ھر مُران کو حضرت انس بن مالک اور احنف بن قیس کی نگرانی میں حضرت عمر کی خدمت میں مدینہ بھجوا دیا۔جب قافلہ مدینہ میں داخل ہوا تو انہوں نے ھرمزان کو اس کا اپنار میشمی لباس پہنایا جس پر سونے کا کام ہوا ہوا تھا۔قیدی تھا لیکن اس کو لباس پہنا دیا جو بڑا شان والا لباس تھا۔اس کے سر پر ہیروں سے جڑا ہوا تاج رکھا گیا تا کہ حضرت عمرؓ اور مسلمان اس کی اصل ہیئت کو دیکھ لیں۔یہ بتانے کے لیے کہ دیکھو اتنے بڑے سردار کو ہم نے زیر کیا ہے۔پھر انہوں نے حضرت عمررؓ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ مسجد میں ہیں۔وہ جب مسجد میں پہنچے تو حضرت عمر اپنی پگڑی پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے۔هُرمُزَان نے پوچھا عمر کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ سورہے ہیں۔اس وقت مسجد میں آپ کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں تھا۔هُزمران نے پوچھا ان کے پہرے دار اور دربان کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا ان کو کسی پہرے دار، درباری، کاتب اور دیوان کی ضرورت نہیں ہے۔ھرمزان نے بے ساختہ کہا کہ یہ شخص ضرور کوئی نبی معلوم ہو تا ہے۔لوگوں نے کہا کہ نبی تو نہیں مگر انبیاء کے طریق پر ضرور ہیں۔حضرت عمر لوگوں کی باتوں سے بیدار ہو گئے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کیا ھرمزان ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں۔تو حضرت عمرؓ نے اس کو اور اس کے لباس کو بغور دیکھا اور کہا میں آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں اور اللہ سے مدد مانگتا ہوں۔قافلہ کے لوگوں نے کہا کہ یہ ہر مزان ہے اس سے بات کر لیں۔آپ نے کہا ہر گز نہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنا زرق برق لباس اور زیورات اتار دے۔تو اس کے تمام زیورات اور شاہانہ لباس کو اتار دیا