اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 126

حاب بدر جلد 3 فتح مدائن 126 حضرت عمر بن خطاب مدائن کی فتح کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا یہ آنحضرت صلی الم کے زمانے میں اس کی پیشگوئی آنحضرت صلی ایلیا رام نے اللہ تعالیٰ کے علم سے فرمائی تھی۔اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ” خندق کھودتے کھودتے ایک جگہ سے ایک پتھر نکلا جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آتا تھا اور صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ تین دن کے مسلسل فاقہ سے سخت نڈھال ہو رہے تھے۔آخر تنگ آکر وہ آنحضرت صلی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک پتھر ہے جو ٹوٹنے میں نہیں آتا۔اس وقت آپ کا بھی یہ حال تھا کہ بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا مگر آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور ایک کدال لے کر اللہ کا نام لیتے ہوئے اس پتھر پر ماری۔لوہے کے لگنے سے پتھر میں سے ایک شعلہ نکلا جس پر آپ نے زور کے ساتھ اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ مجھے مملکت شام کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! اس وقت شام کے سرخ محلات میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔اس ضرب سے وہ پتھر کسی قدر شکستہ ہو گیا۔دوسری دفعہ آپ نے پھر اللہ کا نام لے کر کدال چلائی اور پھر ایک شعلہ نکلا جس پر آپ نے پھر اللہ اکبر کہا اور فرمایا اس دفعہ مجھے فارس کی کنجیاں دی گئی ہیں اور مدائن کے سفید محلات مجھے نظر آرہے ہیں۔اس دفعہ پتھر کسی قدر زیادہ شکستہ ہو گیا۔تیسری دفعہ آپ نے پھر کدال ماری جس کے نتیجہ میں پھر ایک شعلہ نکلا اور آپ نے پھر اللہ اکبر کہا اور فرمایا اب مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم ! صنعاء کے دروازے مجھے اس وقت دکھائے جارہے ہیں۔اس دفعہ وہ پتھر بالکل شکستہ ہو کر اپنی جگہ سے گر گیا۔اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت صلی الی یکم نے ہر موقعہ پر بلند آواز سے تکبیر کہی اور پھر بعد میں صحابہ کے دریافت کرنے پر آپ نے یہ کشوف بیان فرمائے اور مسلمان اس عارضی روک کو دور کر کے پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔“ یعنی پتھر توڑنے کا جو کام تھا (اسے کر کے) پھر کام میں مصروف ہو گئے، پھر خندق کی کھدائی شروع ہو گئی۔آنحضرت صلی ایم کے یہ نظارے عالم کشف سے تعلق رکھتے تھے۔گویا اس تنگی کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کی آئندہ فتوحات اور فراخیوں کے مناظر دکھا کر صحابہ میں امید و شگفتگی کی روح پیدا فرمائی مگر بظاہر حالات یہ وقت ایسا تنگی اور تکلیف کا وقت تھا کہ منافقین مدینہ نے ان وعدوں کو سن کر مسلمانوں پر پھبتیاں اڑائیں کہ گھر سے باہر قدم رکھنے کی طاقت نہیں اور قیصر و کسریٰ کی مملکتوں کے خواب دیکھے جارہے ہیں مگر خدا کے علم میں یہ ساری نعمتیں مسلمانوں کے لئے مقدر ہو چکی تھیں۔چنانچہ یہ وعدے اپنے اپنے وقت پر یعنی کچھ تو آنحضرت صلی علیم کے آخری ایام میں اور زیادہ تر آپ کے خلفاء کے زمانہ میں پورے ہو کر مسلمانوں کے از دیاد ایمان و امتنان کا باعث ہوئے۔213 مدائن کی فتح کا جو وعدہ ہے یہ حضرت عمر کے دور خلافت میں حضرت سعد کے ہاتھوں پورا ہوا جیسا کہ آنحضرت مصلی تعلیم کو دکھایا گیا تھا کہ مدائن فتح ہو گا۔یہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں پورا ہوا۔قادسیہ کو