اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 125

حاب بدر جلد 3 125 حضرت عمر بن خطاب دینے کے لئے تیار ہوں کہ تم اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکو۔اسی طرح تمہیں پہنے کے لئے لباس بھی دونگا۔تم یہ چیزیں لو اور اپنے ملک کو واپس چلے جاؤ۔تم ہم سے جنگ کر کے اپنی جانوں کو کیوں ضائع کرنا چاہتے ہو۔جب وہ بات ختم کر چکا تو اسلامی وفد کی طرف سے حضرت مغیرہ بن زرارہ گکھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔آپ نے ہمارے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے یہ بالکل درست ہے۔ہم واقعہ میں ایک وحشی اور مردار خور قوم تھے۔سانپ اور بچھو اور ٹڈیاں اور چھپکلیاں تک کھا جاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور اس نے اپنار سول ہماری ہدایت کے لئے بھیجا۔ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس کی باتوں پر عمل کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہم میں ایک انقلاب پید اہو چکا ہے۔اور اب ہم میں وہ خرابیاں موجود نہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے۔اب ہم کسی لالچ میں آنے کے لئے تیار نہیں۔ہماری آپ سے جنگ شروع ہو چکی ہے۔اب اس کا فیصلہ میدانِ جنگ میں ہی ہو گا۔“اگر آپ کو یہی منظور ہے کہ دعوت نہیں مانتے اور ہمارے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے ہم بھی جنگ کریں گے۔دنیوی مال و متاع کا لالچ ہمیں اپنے ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا۔لیکن یہ یر و جر د نے یہ بات سنی تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے ایک نوکر سے کہا کہ جاؤ اور مٹی کا ایک بورا لے آؤ۔مٹی کا بورا آیا تو اس نے اسلامی وفد کے سردار کو آگے بلایا اور کہا کہ چونکہ تم نے میری پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔اس لئے اب اس مٹی کے بورے کے سوا تمہیں اور کچھ نہیں مل سکتا۔وہ صحابی نہایت سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھے۔انہوں نے اپنا سر جھکا دیا۔“ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے تھوڑی سی تفصیل ہے اپنا سر جھکا دیا اور مٹی کا بورا اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا پھر انہوں نے ایک چھلانگ لگائی اور تیزی کے ساتھ اس کے دربار سے نکل کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو بلند آواز سے کہا آج ایران کے بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی زمین ہمارے حوالے کر دی ہے اور پھر گھوڑوں پر سوار ہو کر تیزی سے نکل گئے۔بادشاہ نے جب ان کا یہ نعرہ سنا تو وہ کانپ اٹھا اور اس نے اپنے درباریوں سے کہا دوڑو اور مٹی کا بورا ان سے واپس لے آؤ۔یہ تو بڑی بد شگونی ہوئی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی مٹی ان کے حوالے کر دی ہے مگر وہ اس وقت تک گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت دور نکل چکے تھے۔لیکن آخر وہی ہوا جو انہوں نے کہا تھا اور چند سال کے اندر اندر سارا ایران مسلمانوں کے ماتحت آگیا۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ ” یہ عظیم الشان تغیر مسلمانوں میں کیوں پیدا ہوا؟ اسی لئے کہ قرآنی تعلیم نے ان کے اخلاق اور ان کی عادات میں ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔ان کی سفلی زندگی پر اس نے ایک موت طاری کر دی تھی اور انہیں بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی سطح پر لا کر کھڑا کر دیا تھا۔211 جس کی وجہ سے یہ انقلاب پیدا ہوا۔پس قرآنی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی حقیقی انقلاب آیا کرتے ہیں۔12 212