اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 121
محاب بدر جلد 3 121 حضرت عمر بن خطاب کریں۔اسی دوران ملک شام سے مسلمانوں کو کمک موصول ہوئی۔حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص اس کمک کے امیر تھے۔اس کے اگلے حصہ پر حضرت قعقاع بن عمر و امیر تھے۔قعقاع بہت جلد سفر طے کر کے اغواث کی صبح عراق کے لشکر میں پہنچ گئے۔قعقاع نے یہ ہوشیاری کی کہ اپنے ہر اول دستوں کو دس دس سپاہیوں کے گروپوں میں تقسیم کر دیا تھا جو ایک دوسرے سے کچھ فاصلہ پر حرکت کر رہے تھے اور باری باری اسلامی لشکر سے یہ دس دس کے دستے ملتے جاتے تھے۔ہر دستہ کے آنے پر نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتا اور یوں معلوم ہو تا کہ اسلامی لشکر کو مسلسل کمک مل رہی ہے۔خود حضرت قعقاع پہلے حصہ میں پہنچے۔جاتے ہی مسلمانوں کو سلام کیا اور لشکر کی آمد کی خوشخبری سنائی اور کہا اے لوگو! تم وہ کرو جو میں کر رہا ہوں۔یہ کہہ کر وہ آگے بڑھے اور مبارزت طلب کی۔یہ سن کر برہمن جادویہ مقابلہ کے لیے نکلا۔دونوں میں مقابلہ ہوا اور حضرت قعقاع نے اسے قتل کر دیا۔مسلمان بنمَن جَاذْوَیہ کے قتل اور مسلمانوں کے امدادی لشکر کی وجہ سے بہت خوش تھے۔حضرت ماغ کے بارے میں حضرت ابو بکر کا ایک قول ہے کہ وہ لشکر نا قابل شکست ہوتا ہے جہاں ان جیسے موجود ہوں۔اس دن ایرانی اپنے ہاتھیوں کے ذریعہ جنگ نہ کر سکے کیونکہ ان کے ہو دج گذشتہ روز ٹوٹ گئے تھے۔اس لیے وہ صبح سے ان کی درستگی میں مشغول تھے اور مسلمانوں نے یہ ترکیب اختیار کی کہ اپنے اونٹوں کو جھول پہنا دیے جس کے باعث اونٹ او جھل ہو گئے۔ان کے اوپر کپڑے ڈال دیے ان کے جسم اور گرد میں سب چھپ گئیں اور یوں معلوم ہو تا تھا گو یا ہاتھی ہیں۔یہ اونٹ جہاں جاتے ایرانیوں کے گھوڑے اس طرح بدکنے شروع کر دیتے جیسے گذشتہ روز مسلمانوں کے گھوڑے بدکتے رہے تھے۔صبح سے لے کر دو پہر تک فریقین کے گھڑ سوار مقابلہ کرتے رہے۔جب دن آدھے سے زیادہ گزر گیا تو عمومی جنگ شروع ہوئی جو آدھی رات تک جاری رہی۔یہ دوسرا دن یوم اغواث کہلاتا ہے اور یہ دن مسلمانوں کے نام رہا یعنی اس میں مسلمانوں کو کامیابی ملی۔تیسرے دن کی صبح ہوئی تو دونوں لشکر اپنے اپنے مورچوں میں تھے۔اس روز خون ریز جنگ ہوئی۔مسلمان شہداء کی تعداد دو ہزار تھی اور ایرانی فوج کے دس ہزار سپاہی قتل ہوئے۔مسلمان اپنے مقتولین کو دفن کرتے رہے اور زخمیوں کو علاج کے لیے عورتوں کے سپرد کرتے رہے جبکہ ایرانیوں کے مقتولین کی لاشیں اسی طرح میدان میں پڑی رہیں۔اس رات ایرانی اپنے ہاتھیوں کے ہودج وغیرہ درست کرتے رہے۔پیدل فوج ہاتھیوں کی حفاظت کے لیے ساتھ تھی تاہم آج کے روزوہ ہاتھی اتنی تباہی نہ پھیلا سکے جتنی انہوں نے پہلے دن پھیلائی تھی۔حضرت سعد نے حضرت قعقاع اور حضرت عاصیم کی طرف پیغام بھیجا کہ ایرانیوں کے سفید ہاتھی سے میرا پیچھا چھڑاؤ۔چنانچہ حضرت قعقاع اور حضرت عاصم نے حملہ کر کے اس کی دونوں آنکھوں میں نیزے گھونپے جس سے ہاتھی نے بدحواس ہو کر اپنے سوار کو نیچے گرادیا۔اس کی سونڈ کاٹ دی گئی اور پھر تیروں کے حملے کر کے اسے نیچے گرنے پر مجبور کر دیا۔اس کے بعد دوسرے مسلمانوں نے