اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 109
اصحاب بدر جلد 3 109 حضرت عمر بن خطاب تھا۔ابوعبید کو اس کی اطلاع مل چکی تھی اور انہوں نے کمال ہوشیاری سے کام لے کر جالینوس کے لشکر کی آمد سے پہلے ہی نرمینی کی افواج سے ٹکر لے لی اور اس کو شکست دے کر دشمن کی فوجی طاقت کو صدمہ پہنچا دیا تھا۔اب جالینوس بار و سما کے علاقے میں باقسيَاثًا کے مقام پر لشکر انداز ہوا۔بصرہ اور کوفہ کے درمیان کی بستیوں کو ارض سواد کہا جاتا تھا اور بَارُ وسَما اور باقسَيَانَا ان بستیوں میں سے دو بستیاں ہیں۔ابوعبید با فسیانا پہنچے اور مختصر سی لڑائی کے بعد ایرانی افواج نے شکست کھائی اور جالینوس میدان سے بھاگ کھڑا ہوا اور ابوعبید نے وہاں قیام کر کے ارد گرد کے علاقوں پر مکمل قبضہ کر لیا۔مؤرخ طبری جو ہے یہ ان کا بیان ہے۔بلاذری نے لکھا ہے کہ جالینوس سے مصالحت ہو گئی تھی البتہ بعد کے مؤرخین میں ابن خلدون اور ابن اثیر نے طبری کی تائید کی ہے۔193 جنگ جسر کا کچھ بیان کچھ عرصہ پہلے ہو چکا ہے 194 یہاں بھی یہ ضروری ہے بیان کرتا ہوں۔جنگ جنیر ، یہ بھی تیرہ ہجری میں ہوئی۔دریائے فرات کے کنارے مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان لڑی گئی تھی۔مسلمانوں کی طرف سے لشکر کے سپہ سالار حضرت ابو عبید ثقفی تھے جبکہ ایرانیوں کی طرف سے بہمَن جَاذْوَیہ سپہ سالار تھا۔مسلمان فوج کی تعداد دس ہزار تھی جبکہ ایرانیوں کی فوج میں تیس ہزار فوجی اور تین سو ہا تھی تھے۔دریائے فرات کے درمیان میں حائل ہونے کی وجہ سے دونوں گروہ کچھ عرصہ تک لڑائی سے رکے رہے یہاں تک کہ فریقین کی باہمی رضامندی سے فرات پر جسر یعنی ایک پل تیار کیا گیا۔اسی پل کی وجہ سے اس کو جنگ جسر کہا جاتا ہے۔جب پل تیار ہو گیا تو برہمن جَاذْوَیہ نے حضرت ابوعبید کو کہلا بھیجا کہ تم دریا عبور کر کے ہماری طرف آؤ گے یا ہمیں عبور کرنے کی اجازت دو گے۔حضرت ابو عبید کی رائے تھی کہ مسلمانوں کی فوج دریا عبور کر کے مخالف گروہ سے جنگ کرے لشکر کے سردار جن میں حضرت سلیط بھی تھے ان کی رائے اس کے خلاف تھی لیکن حضرت ابو عبید نے دریائے فرات کو عبور کر کے اہل فارس کے لشکر پر حملہ کر دیا۔تھوڑی دیر تک لڑائی ایسے ہی چلتی رہی کچھ دیر بعد بهمن جَاذْوَیہ نے اپنی فوج کو منتشر ہوتے دیکھا تو اس نے ہاتھیوں کو آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ہاتھیوں کے آگے بڑھنے سے مسلمانوں کی صفیں بے ترتیب ہو گئیں اور اسلامی لشکر ادھر ادھر ہٹنے لگا۔حضرت ابوعبید نے مسلمانوں کو کہا کہ اے اللہ کے بندو! ہاتھیوں پر حملہ کرو اور ان کی سونڈیں کاٹ ڈالو۔حضرت ابوعبید یہ کہہ کر خود آگے بڑھے اور ایک ہاتھی پر حملہ کر کے اس کی سونڈ کاٹ ڈالی۔باقی اسلامی لشکر نے بھی یہ دیکھ کر تیزی سے لڑائی شروع کر دی اور کئی ہاتھیوں کی سونڈیں اور پاؤں کاٹ کر ان کے سواروں کو قتل کر دیا۔اتفاق سے حضرت ابو عبید ایک ہاتھی کے سامنے آگئے۔آپ نے وار کر کے اس کی سونڈ کاٹ دی مگر آپ اس ہاتھی کے پاؤں کے نیچے آگئے اور دب کر شہید ہو گئے۔