اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 88
محاب بدر جلد 3 کی محتاج ہے۔156❝ 88 حضرت عمر بن خطاب پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”اسلام ہی ہے جس نے ملکی حقوق بھی قائم کیے ہیں۔اسلام کے نزدیک ہر فرد کی خوراک، رہائش اور لباس کی ذمہ دار حکومت ہے اور اسلام نے ہی سب سے پہلے اس اصول کو جاری کیا ہے۔اب دوسری حکومتیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں مگر پورے طور پر نہیں۔پیسے کیے جا رہے ہیں۔فیملی پیشنیں دی جارہی ہیں۔مگر یہ کہ جوانی اور بڑھاپے دونوں میں خوراک اور لباس کی ذمہ وار حکومت ہوتی ہے یہ اصول اسلام سے پہلے کسی مذہب نے پیش نہیں کیا۔دنیاوی حکومتوں کی مردم شماریاں اس لئے ہوتی ہیں تا ٹیکس لیے جائیں یا فوجی بھرتی کے متعلق یہ معلوم کیا جائے کہ ضرورت کے وقت کتنے نوجوان مل سکتے ہیں۔مگر اسلامی حکومت میں سب سے پہلی مردم شماری جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کروائی گئی تھی وہ اس لئے کروائی گئی تھی تاکہ تمام لوگوں کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے اس لئے نہیں کہ ٹیکس لگایا جائے یا یہ معلوم کیا جائے کہ ضرورت کے وقت فوج کے لئے کتنے نوجوان مل سکیں گے بلکہ وہ مردم شماری محض اس لئے تھی کہ تاہر فرد کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مردم شماری رسول کریم صلی الل ولم کے زمانہ میں بھی ہوئی تھی مگر اس وقت ابھی مسلمانوں کو حکومت حاصل نہیں ہوئی تھی اس لئے اس مردم شماری کا مقصد محض مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنا تھی۔جو مردم شماری اسلامی حکومت کے زمانہ میں سب سے پہلے ہوئی وہ حضرت عمر کے زمانہ میں ہوئی اور اس لئے ہوئی تاکہ ہر فرد کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے۔یہ کتنی بڑی اہم چیز ہے جس سے تمام دنیا میں امن قائم ہو جاتا ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ درخواست دے دو اس پر غور کیا جائے گا اسے ہر انسان کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی کہ درخواستیں منگوائی جائیں پھر غور کیا جائے۔” اس لئے اسلام نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ کھانا اور کپڑ ا حکومت کے ذمہ ہے اور یہ ہر امیر اور غریب کو دیا جائے گا خواہ وہ کروڑپتی ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ آگے کسی اور کو ہی کیوں نہ دے دے تاکہ کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ اسے ادنی خیال کیا جاتا ہے۔جو امیروں کو ملے گا تو امیر بھی اگر وہ تقویٰ پر چلنے والے ہیں تو بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے وہ پھر آگے ضرورت مندوں کو دیں گے۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں ممالک کو صوبہ جات میں تقسیم کیا گیا۔میں ہجری میں مقبوضہ ممالک کو حضرت عمرؓ نے آٹھ صوبوں میں تقسیم فرمایا تاکہ انتظامی امور میں آسانی رہے۔نمبر ایک مکہ ، نمبر دو مدینہ، نمبر تین شام، نمبر چار جزیرہ، نمبر پانچ بصرہ، نمبر چھ کو فہ نمبر سات مصر اور نمبر آٹھ فلسطین۔158 پھر شوری کا قیام آپ کے زمانے میں ہوا۔مجلس شوری میں ہمیشہ لازمی طور پر ان دونوں گروہ یعنی مہاجرین اور انصار کے ارکان شریک ہوتے تھے۔انصار بھی دو قبیلوں میں منقسم تھے اوس اور خزرج۔چنانچہ ان دونوں خاندانوں کا مجلس شوریٰ میں شریک ہو نا ضروری تھا۔اس مجلس شوریٰ میں حضرت عثمان، 157"