اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 86
حاب بدر جلد 3 86 حضرت عمر بن خطاب جاری رہا۔یورپین مؤرخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سب سے پہلی مردم شماری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کروائی تھی اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے یہ سب سے پہلی مردم شماری رعایا سے دولت چھینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی غذا کا انتظام کرنے کے لیے جاری کی تھی۔اور حکومتیں تو اس لیے مردم شماری کراتی ہیں کہ لوگ قربانی کے بکرے بہنیں اور فوجی خدمات بجالائیں۔مگر حضرت عمرؓ نے اس لیے مردم شماری نہیں کرائی کہ لوگ قربانی کے بکرے بنیں بلکہ اس لیے کرائی کہ ان کے پیٹ میں روٹی ڈالی جائے ، یہ دیکھا جائے کہ کتنے لوگ ہیں اور خوراک کا کتنا انتظام کرنا ہے؟ چنانچہ مردم شماری کے بعد تمام لوگوں کو ایک مقررہ نظام کے ماتحت غذ املتی اور جو باقی ضروریات رہ جاتیں ان کے لیے انہیں ماہوار کچھ رقم دے دی جاتی اور اس بارہ میں اتنی احتیاط سے کام لیا جا تا تھا کہ حضرت عمرہ کے زمانہ میں جب شام فتح ہوا اور وہاں سے زیتون کا بے شمار تیل آیا اور ہر ایک کو زیتون کا تیل ملنے لگ گیا۔تو آپ نے ایک دفعہ لوگوں سے کہا کہ زیتون کے استعمال سے میر اپیٹ پھول جاتا ہے۔یعنی حضرت عمر کو خود بھی ملتا تھا، اس میں سے تیل لیتے تھے تو آپ نے کہا کہ زیتون کا جب میں زیادہ استعمال کروں تو میرا پیٹ پھول جاتا ہے۔تم مجھے اجازت دو تو میں بیت المال سے اتنی ہی قیمت کا بھی لے لیا کروں۔اور زیتون کیونکہ میری صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے تو جتنی قیمت کا زیتون ہے اتنی قیمت کا گھی لے لیا کروں۔غرض یہ پہلا قدم تھا جو اسلام میں لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا اور ظاہر ہے کہ اگر یہ نظام قائم ہو جائے تو اس کے بعد کسی اور نظام کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ سارے ملک کی ضروریات کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ان کا کھانا، ان کا پینا، ان کا پہنا، ان کی تعلیم ، ان کی بیماریوں کا علاج اور ان کی رہائش کے لیے مکانات کی تعمیر یہ سب کا سب اسلامی حکومت کے ذمہ ہو گا اور اگر یہ ضروریات پوری ہوتی رہیں تو کسی بیمہ وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔بیمے اس لیے لوگ کرواتے ہیں ناں کہ بعد میں ہم اپنے بچوں کے لیے کچھ چھوڑ جائیں یا جب بڑھاپے میں کمائی نہیں کر سکتے تو اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔جب حکومت یہ ذمہ داری لے لے تو پھر کسی بھی بیمے کی ضرورت نہیں رہتی۔پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ مگر بعد میں آنے والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ بادشاہ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو کچھ دے اور چاہے تو نہ دے اور چونکہ اسلامی تعلیم ابھی پورے طور پر راسخ نہیں ہوئی تھی تو وہ لوگ پھر قیصر و کسری کے طریق کی طرف مائل ہو گئے۔جس طرح دوسرے بادشاہ کرتے تھے وہی طریق پھر رائج ہو گیا۔اسلامی حکومت کے ہر شخص کے لیے روٹی کپڑے کے انتظام کرنے کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ مزید فرماتے ہیں کہ ”اسلامی حکومت۔۔۔۔۔جب وہ اموال کی مالک ہوئی تو اس نے ہر ایک شخص کی روٹی کپڑے کا انتظام کیا چنانچہ وہی بیان ہوا ہے کہ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب نظام مکمل ہوا تو اس وقت اسلامی تعلیم کے ماتحت ہر فردو بشر کے لیے روٹی اور کپڑا مہیا کر نا حکومت کے ذمہ تھا 155