اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 85

اصحاب بدر جلد 3 85 حضرت عمر بن خطاب ہمارے پاس ایک کھجور بھی ہوتی تو ہم اس کا کھانا سخت بد دیانتی سمجھتے تھے اور اس وقت تک چین نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس کو سٹور میں داخل نہیں کر دیتے تھے۔یہ دوسرا نمونہ تھا جو رسول کریم صلی ا ہم نے دکھایا۔جب تک کہ حالات خراب تھے اس وقت تک یہ اسی طرح ہو تا تھا اور یہ نمونہ آپ نے قائم کیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ ظلم کے زمانہ میں دولت بھی آئی اور خزانوں کے منہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیے۔مگر اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس بارہ میں تفصیلی نظام رسول کریم ملی ایم کے بعد جاری ہو تا لوگ یہ نہ کہہ دیں کہ یہ صرف رسول کریم صل الم کی خصوصیت تھی۔کوئی اور شخص اسے جاری نہیں کر سکتا۔جب دولتیں آگئیں تو پر انا نظام جاری ہو گیا لیکن بعد میں بھی اس کو اللہ تعالیٰ نے جاری کرنے کا انتظام فرمایا۔وہ کس طرح؟ آپ لکھتے ہیں کہ چنانچہ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی الم کے ہاتھ سے ایک نمونہ قائم کر دیا اور ادھر مدینہ پہنچتے ہی انصار نے اپنی دولتیں مہاجرین کے سامنے پیش کر دیں۔مہاجرین نے کہا ہم یہ زمینیں مفت میں لینے کے لیے تیار نہیں۔ہم ان زمینوں پر بطور مزارع کام کریں گے اور تمہارا حصہ تمہیں دیں گے۔لیکن یہ مہاجرین کی طرف سے اپنی ایک خواہش کا اظہار تھا۔انصار نے اپنی جائیدادوں کے دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گورنمنٹ راشن دے تو کوئی س نہ لے۔اس سے گورنمنٹ زیر الزام نہیں آئے گی۔یہی کہا جائے گا کہ گورنمنٹ نے تو راشن مقرر کر دیا تھا۔اب دوسرے شخص کی مرضی تھی کہ وہ چاہے لیتا یا نہ لیتا۔اسی طرح انصار نے سب کچھ دے دیا۔یہ الگ بات ہے کہ مہاجرین نے نہ لیا۔غرض عملی طور پر رسول کریم صلی الم نے یہ کام اپنی زندگی میں ہی شروع فرما دیا تھا۔یہاں تک کہ جب بحرین کا بادشاہ مسلمان ہو اتو آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ تمہارے ملک میں جن لوگوں کے پاس گزارہ کے لیے کوئی زمین نہیں ہے تم ان میں سے ہر شخص کو چار درہم اور لباس گزارہ کے لیے دو تاکہ وہ بھوکے اور ننگے نہ رہیں۔اس کے بعد مسلمانوں کے پاس دولتیں آنی شروع ہو گئیں۔چونکہ مسلمان کم تھے اور دولت زیادہ تھی اس لیے کیسی نئے قانون کے استعمال کی اس وقت ضرورت محسوس نہ ہوئی۔کیونکہ جو غرض تھی وہ پوری ہورہی تھی۔اصول یہ ہے کہ جب خطرہ ہو تب قانون جاری کیا جائے اور جب نہ ہو اس وقت اجازت ہے کہ حکومت اس قانون کو جاری کرے یا نہ کرے۔پھر جو بات میں نے شروع کی تھی، جو میں بیان کرنا چاہتا تھا بیچ میں دوسری تفصیل آگئی۔اب وہ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی للی یکم کے بعد یہ نظام کس طرح جاری ہوا؟ جب رسول کریم صلی علیہ کو وفات پاگئے اور مسلمان دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلنا شروع ہوئے تو اس وقت غیر قومیں بھی اسلام میں شامل ہو گئیں۔عرب لوگ تو ایک جتھہ اور ایک قوم کی شکل میں تھے اور وہ آپس میں مساوات بھی قائم رکھتے تھے۔جب اسلام مختلف گوشوں میں پہنچا اور مختلف قومیں اسلام میں داخل ہونی شروع ہو ئیں تو ان کے لیے روٹی کا انتظام بڑا مشکل ہو گیا۔آخر حضرت عمرؓ نے تمام لوگوں کی مردم شماری کرائی اور راشننگ سسٹم (rationing system) قائم کر دیا جو بنو امیہ کے عہد تک