اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 65

صحاب بدر جلد 3 65 حضرت عمر بن خطاب وہ ہوئے تو وہ ایسے لوگوں میں سے تھے کہ تم میں سے کوئی ان کی رقیق القلبی اور کرم اور نرم مزاجی کا منکر نہیں ہے اور میں ان کا خادم اور ان کا مددگار تھا۔اپنی سختی کو ان کی نرمی کے ساتھ ملا دیتا تھا اور سونتی ہوئی تلوار بن جاتا تھا اور ان کے ہاتھ میں ہو تا تھا کہ وہ مجھے نیام میں بند کر دیں یا اگر چاہیں تو مجھے چھوڑ دیں اور میں کاٹ ڈالوں۔تو میں ان کے ساتھ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے ان کو اس حال میں وفات دی کہ وہ مجھ سے خوش تھے۔الحمد للہ میں اس بنا پر سعادت مند رہا۔پھر اے لوگو! میں تمہارے امور کا والی بن گیا ہوں۔اب سمجھ لو کہ وہ تیزی کمزور کر دی گئی لیکن دہ مسلمانوں پر ظلم و دراز دستی کرنے والوں پر ظاہر ہو گی۔تم پر کمزور ہے لیکن دشمنوں پر تیزی ظاہر ہو گی۔رہے وہ لوگ جو نیک خو اور دین دار اور صاحب فضیلت ہیں میں ان کے ساتھ اس سے بھی زیادہ نرم ثابت ہوں گا جو نرمی وہ ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں پاؤں گا جو دوسرے پر ظلم و دراز دستی کرتا ہو گا مگر میں اس کے رخسار کو زمین پر ڈال کر اپنا پاؤں اس کے دوسرے رخسار پر رکھوں گا یہاں تک کہ وہ حق کو اچھی طرح سمجھ لے یعنی بہت سختی کروں گا۔اور اے لوگو ! تمہارے مجھ پر بہت سے حقوق ہیں جو میں تم سے ذکر کرتا ہوں تم ان پر میری گرفت کر سکتے ہو۔تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں اس مال میں سے جو تم پر خرچ کرنا ہے کوئی شے تم سے چھپا کر نہ رکھوں اور نہ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ غنیمتوں میں سے تمہارے لیے بھیجے بجز اس کے جو اللہ تعالیٰ کے کام کے لیے روکوں۔اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ وہ مال اپنے حق کے موقع پر خرچ ہو اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں تمہارے وظائف اور روزینے تم کو دیتار ہوں اور تمہارا مجھ پر یہ حق بھی ہے کہ میں تم کو ہلاکت کے مقامات میں نہ ڈالوں اور جب تم لشکر میں شامل ہو کر گھر سے غائب رہو تو میں تمہارے بال بچوں کا باپ بنا رہوں یہاں تک کہ تم ان کے پاس واپس آؤ۔میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت چاہتا ہوں۔حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت یہ آیت رہتی تھی کہ تُؤَدُّوا الآمنتِ إِلَى أَهْلِهَا۔یعنی جو لوگ حکومت کے قابل ہوں، جو انتظامی امور کو سنبھالنے کی اہلیت اپنے اندر رکھتے ہوں ان کو یہ امانت سپر د کیا کرو اور پھر جب یہ امانت بعض لوگوں کے سپر د ہو جاتی تھی تو شریعت کا یہ حکم ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا کہ دیانت داری اور عدل کے ساتھ حکومت کرو۔اگر تم نے عدل کو نظر انداز کر دیا، اگر تم نے دیانت داری کو ملحوظ نہ رکھا، اگر تم نے اس امانت میں کسی خیانت سے کام لیا تو خدا تم سے حساب لے گا اور وہ تمہیں اس جرم کی سزا دے گا۔یہی وہ چیز تھی جس کا اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اس قدر غالب اور نمایاں تھا کہ اسے دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت عمر جو اسلام میں خلیفہ ثانی گزرے ہیں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اس قدر قربانیوں سے کام لیا ہے 126