اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 64
محاب بدر جلد 3 64 حضرت عمر بن خطاب معاملہ ہمارے سامنے ہو گا ہم اسے خود دیکھیں گے اور جو معاملہ ہم سے دور ہو گا تو ہم اس کے لیے قوی اور امین لوگ مقرر کریں گے اور جو اچھائی کرے گا ہم اس کو بھلائی میں بڑھائیں گے اور جو برائی کرے گا ہم اسے سزا دیں گے اور اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔124 جامع بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ منبر پر چڑھے تو آپ کا سب سے پہلا کلام یہ تھا کہ آپ نے فرمایا اللهُمَّ إِنِّي شَدِيدٌ فَلَيْنِي وَإِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوَنِي وَإِنِّي بَخِيلٌ فَسَخَنِي لَم اے اللہ ! میں سخت ہوں پس تو مجھے نرم کر دے اور میں کمزور ہوں پس تو مجھے طاقتور بنا دے اور میں بخیل ہوں پس تو مجھے سخی بنا دے۔4 جامع بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ میں چند کلمات کہنے والا ہوں تم ان پر آمین کہو۔یہ پہلا کلام تھا جو حضرت عمرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد کیا۔حصین مرسی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا عربوں کی مثال نکیل میں بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جو اپنے قائد کے پیچھے چلتا ہے۔پس اس کے قائد کو چاہیے کہ وہ دیکھے کس طرف ہانک رہا ہے اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو رب کعبہ کی قسم ! میں انہیں ضرور سید ھے رستے پر رکھوں گا۔125 جو پہلے والی روایت ہے اس میں یہ تو ہے کہ آمین کہنا لیکن تفصیل اس کی نہیں بیان ہوئی۔یا یہی نکیل والی تفصیل ہے۔الله سر بہر حال حضرت عمر نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد تیسرے روز ایک تفصیلی خطاب فرمایا۔وہ یوں ہے کہ جب حضرت عمرؓ کولوگوں کے ان سے خائف ہونے کی اطلاع پہنچی تو لوگوں میں ان کے حکم سے الصلوة جامعة کہ نماز تیار ہے کی بلند آواز لگائی گئی۔اس پر لوگ حاضر ہو گئے تو آپ منبر پر اس جگہ بیٹھے جہاں حضرت ابو بکر اپنے پاؤں رکھا کرتے تھے۔جب پورا اجتماع ہو گیا یعنی لوگ اکٹھے ہو گئے تو سیدھے ڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا ان کلمات سے کی جو اس کے مناسب ہیں اور نبی صلی للی کم پر درود پڑھا۔پھر فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ لوگ میری تیز مزاجی سے ڈر رہے ہیں اور وہ میری تند خوئی سے خوفزدہ ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمر ہم پر سخت گیری اس زمانے میں بھی کیا کرتا تھا جبکہ رسول اللہ صلی الی یم ہمارے درمیان موجود تھے اور پھر ہم پر سختی کرتا رہا جبکہ ابو بکر ہم پر حاکم تھے نہ کہ وہ تو اب کیا حال ہو گا جبکہ امور کا پورا اختیار اسی کے ہاتھ میں پہنچ گیا ہے ؟ جس نے یہ کہا اس نے سچ کہا۔بے شک میں رسول اللہ کی تعلیم کے ساتھ تھا اور آپ کا غلام اور آپ کا خادم تھا اور آپ صلی علی یم ایسے تھے کہ کوئی شخص آپ کی نرمی اور رحمدلی کی صفت تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے موسوم کیا اور آپ کو اپنے اسماء میں سے دو نام رؤوف اور رحیم عطا کیے اور میں ایک کچھی ہوئی تلوار تھا کہ رسول اللہ صلی علی یکم اگر چاہیں تو مجھے نیام میں کر لیں یا مجھے چھوڑ دیں تو میں کاٹ ڈالوں۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلالی کی وفات پاگئے اور وہ مجھ سے خوش تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ میں اس بنا پر سعادت مند رہا۔پھر لوگوں کے حاکم ابو بکر