اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 50
تاب بدر جلد 3 50 حضرت عمر بن خطاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت کے بارے میں بات فرماتے ہیں کہ ”ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کر جاتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم کریں گے مگر مدد و امداد کے موقعہ پر اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑ رکھتے ہیں۔بھلا ایسی محبت دنیا سے کوئی دینی مقصد پاسکتا ہے ؟ اور کیا ایسے لوگوں کا وجود کچھ بھی نفع رساں ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : 93) جب تک تم اپنی عزیز ترین اشیاء اللہ جل شانہ کی راہ میں خرچ نہ کرو تب تک تم نیکی کو نہیں پاسکتے۔9966 نبی صلی کم کی بیماری میں وصیت کا اظہار اور صحابہ کا رد عمل الله 100 آنحضرت صلی اللہ یکم کا جب وصال ہوا، آپ کی وفات ہوئی تو اس وقت حضرت عمر کا کیا رد عمل تھا؟ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم کی وفات کا وقت قریب آیا اور گھر میں کچھ مر دیکھے جن میں حضرت عمر بن خطاب بھی تھے۔نبی صلی ہیم نے فرمایا۔آؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔آنحضرت صلی الی یکم کی بیماری کے آخری دنوں کی بات ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں سے کہا جو ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی الی یکم سخت بیمار ہیں اور تمہارے پاس قرآن بھی ہے۔تمہارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔گھر میں موجود لوگوں نے اختلاف کیا اور تکرار کی۔بحث شروع ہو گئی۔اس پر ان میں سے بعض کہتے تھے کہ کاغذ قلم قریب لے آؤ کہ رسول اللہ صلی ال کی تمہیں ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے اور ان میں سے بعض وہ بات کہہ رہے تھے جو حضرت عمرؓ نے کہی کہ آنحضرت صلی لی ملک کو تکلیف نہ دو۔پھر جب انہوں نے رسول اللہ صلی لنی کیم کے پاس بہت باتیں کیں یعنی بحث شروع ہو گئی اور اختلاف کیا تو رسول اللہ صل اللی کرم نے فرمایا کہ چلے جاؤ یہاں سے۔یہ مسلم کی روایت ہے۔اس کی کچھ تفصیل بخاری میں بھی ہے۔وہاں عبید اللہ بن عبد اللہ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔وہ کہتے تھے کہ جب نبی صلی علی کمر پر آپ کی بیماری نے سخت حملہ کیا تو آپ صلی علیہم نے فرمایا میرے پاس کوئی لکھنے کا سامان لاؤ تا میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم بھولو نہیں۔حضرت عمرؓ نے ارد گر دلوگوں کو کہا نبی صلی کم پر اس وقت بیماری نے غلبہ کیا ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے یعنی قرآن کریم ہے جو ہمارے لیے کافی ہے۔اس لیے آنحضرت صلی ایم کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔اس پر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور شور بہت ہو گیا۔آپ کی ٹیم نے فرمایا اٹھو میرے پاس سے چلے جاؤ۔میرے پاس جھگڑ نا نہیں چاہیے۔اس پر حضرت ابن عباس باہر چلے گئے۔وہ کہا کرتے تھے کہ بڑا نقصان سارے کا سارا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم کو لکھنے سے روک دیا۔اس کی تشریح میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے جو لکھا ہے۔اس کا کچھ حصہ 101 الله سة