اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 42

اصحاب بدر جلد 3 42 حضرت عمر بن خطاب تھے کہ اے خدا! میں تجھ سے اپنی نیکیوں کا بدلہ نہیں مانگتا تو میری خطائیں معاف کر دے تو سب خطاؤں سے بڑھ کر اس ایک خطا کا تصور آپ کو بے چین کئے ہوئے ہو گا جو میدان حدیبیہ میں آپ سے سرزد ہوئی۔صلح نامہ کی تحریر کے دوران صحابہ کی بے چینی اور دل شکستگی کا عالم دیکھ کر آنحضور کے دل کی کیفیت کا راز آپ کے آسمانی آقا اور بیحد محبت کرنیو الے رفیق اعلیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا لیکن ان تین سادہ سے جملوں میں جو عمرؓ کے جواب میں آپ کی زبان مبارک سے نکلے آپ نے غور کرنے والوں کے لئے بہت کچھ فرما دیا۔85 صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس پر حضرت عمررؓ کے بھی دستخط تھے۔اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ”اس معاہدہ کی دو نقلیں کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر اپنے دستخط ثبت کئے۔مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ، حضرت عثمان۔۔۔عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور ابو عبیدہ تھے۔معاہدہ کی تکمیل کے بعد شہیل بن عمر و معاہدہ کی ایک نقل لے کر مکہ کی طرف واپس لوٹ گیا اور دوسری نقل آنحضرت صلی ال نیم کے پاس رہی۔66 صلح حدیبیہ سے واپسی کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ ” قربانی وغیرہ سے فارغ ہو کر آنحضرت مصلی املی یکم نے مدینہ کی طرف واپسی کا حکم دیا۔اس وقت آپ کو حدیبیہ میں آئے کچھ کم ہیں یوم ہو چکے تھے۔جب آپ واپسی سفر میں عسفان کے قریب گراعُ الْغَمِيمِ میں پہنچے۔عُسْفَان مکہ سے 103 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور کُرَاعُ الْغَمِيم ، عُسْفَان سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے۔”اور یہ رات کا وقت تھا تو اعلان کرا کے صحابہ کو جمع کروایا آپ نے ” اور فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے اور وہ یہ ہے۔“سورہ فتح کے بارے میں۔” إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَ يَنْصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزًا (42) سورہ فتح کی یہ دو سے چار آیتیں لا 8666 ہیں۔پھر اسی طرح چلتا ہے اور اٹھا ئیسویں آیت یہ ہے کہ "لَقَد صَدَقَ اللهُ رَسُولَهُ الدُّنْيَا بِالْحَقِّ لتدخُلنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللهُ امِنِينَ مُحَلِقِينَ رُءُوسَكُمْ وَ مُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ “ (الفتح: 28) یعنی اے رسول! ہم نے تجھے ایک عظیم الشان فتح عطا کی ہے تاکہ ہم تیرے لئے ایک ایسے دور کا آغاز کرا دیں جس میں تیری انگلی اور پچھلی سب کمزوریوں پر مغفرت کا پردہ پڑ جائے اور تا خدا اپنی نعمت کو تجھ پر کامل کرے اور تیرے لئے کامیابی کے سیدھے رستے کھول دے اور ضرور خد اتعالیٰ تیری زبر دست نصرت فرمائے گا۔۔۔حق یہ ہے کہ خدا نے اپنے رسول کی اس خواب کو پورا کر دیا جو اس نے رسول کو دکھائی تھی۔کیونکہ اب تم انشاء اللہ ضرور ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے اور قربانیوں کو خدا کی راہ میں پیش کر کے اپنے سر کے بالوں کو منڈواؤ گے یا کترواؤ گے اور تم پر کوئی خوف نہیں ہو گا۔ج