اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 36
محاب بدر جلد 3 36 حضرت عمر بن خطاب میں یہ اعلان کریں کہ اگر اب بھی وہ اسلام کی عداوت سے باز آجائیں اور آنحضرت صلی ایم کی حکومت کو ہم کر لیں تو ان کو امن دیا جائے گا اور مسلمان واپس لوٹ جائیں گے۔مگر انہوں نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور جنگ کے واسطے تیار ہو گئے۔حتی کہ لکھا ہے کہ سب سے پہلا تیر جو اس جنگ میں چلایا گیا وہ انہی کے آدمی نے چلایا تھا۔جب آنحضرت صلی علیم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے بھی صحابہ کو لڑنے کا حکم دیا۔“ جنگ انہوں نے دوسروں نے مخالفین نے ، دشمنوں نے شروع کر دی تھی۔تھوڑی دیر تک فریقین کے درمیان خوب تیز تیر اندازی ہوئی۔جس کے بعد آنحضرت صلی الم نے صحابہ کو یکلخت دھاوا کر دینے کا حکم دیا ایک دم حملہ کر دو۔” اور اس اچانک دھاوے کے نتیجے میں کفار کے پاؤں اکھڑ گئے مگر مسلمانوں نے ایسی ہوشیاری کے ساتھ ان کا گھیر اڈالا کہ ساری کی ساری قوم محصور ہو کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی اور صرف دس کفار اور ایک مسلمان کے قتل پر اس جنگ کا جو ایک خطرناک صورت اختیار کر سکتا تھا خاتمہ ہو گیا۔“ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ ”اس موقعہ پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسی غزوہ کے متعلق صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی علیم نے بنو مصطلق پر ایسے وقت میں حملہ کیا تھا کہ وہ غفلت کی حالت میں اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے مگر غور سے دیکھا جاوے تو یہ روایت مورخین کی روایت کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ در حقیقت دو روایتیں دو مختلف وقتوں سے تعلق رکھتی ہیں یعنی واقعہ یوں ہے کہ جب اسلامی لشکر بنو مصطلق کے قریب پہنچا تو اس وقت چونکہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمان بالکل قریب آگئے ہیں (گو انہیں اسلامی لشکر کی آمد آمد کی اطلاع ضر ور ہو چکی تھی) وہ اطمینان کے ساتھ ایک بے ترتیبی کی حالت میں پڑے تھے اور اسی حالت کی طرف بخاری کی روایت میں بھی اشارہ ہے لیکن جب ان کو مسلمانوں کے پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو وہ اپنی مستقل سابقہ تیاری کے مطابق فور أصف بند ہو کر مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے اور یہ وہ حالت ہے جس کا ذکر مؤرخین نے کیا ہے اور اس اختلاف کی یہی تشریح علامہ ابن حجر اور بعض دوسرے محققین نے کی ہے 7366 اور یہی درست معلوم ہوتی ہے۔غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک اور واقعہ بھی ہوا۔صحیح مسلم میں اس کی روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی الی یکم کے ساتھ ایک غزوہ یعنی غزوہ بنو مصطلق میں تھے کہ مہاجروں میں سے کسی آدمی نے انصار میں سے کسی آدمی کی پیٹھ پر مارا۔انصاری نے کہا اے انصار ! اور مہاجر نے کہا اے مہاجر و ایعنی دونوں نے مدد کے لیے اپنے اپنے لوگوں کو بلایا۔انصار نے بھی، مہاجروں نے بھی۔آنحضرت صلی الی یکم تک یہ معاملہ پہنچا اور جب آپ نے یہ شور سنا تو اس پر رسول اللہ صلی علی کلم نے فرمایا کہ یہ جاہلیت کی آوازیں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مہاجروں میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک آدمی کی پیٹھ پر مارا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا اس بات کو چھوڑ دو۔یہ گندی بات ہے۔