اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 478 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 478

حاب بدر جلد 3 478 حضرت علی حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے لشکر کی تمام چیزوں پر قبضہ کر لیا۔ہتھیار اور جنگی سواریاں تو لوگوں میں تقسیم کروائے لیکن سامان و غلام اور لونڈیوں کو کوفہ واپس آنے پر ان کے مالکوں کو لوٹا دیا۔952 پھر ایک اور حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ :۔9536 ”حضرت ابو بکر کے زمانہ کی نسبت حضرت عمر کا زمانہ رسول کریم صلی العلیم سے زیادہ دور تھا۔یہی حال حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کا تھا۔بیشک ان کا درجہ اپنے سے پہلے خلیفوں سے کم تھا لیکن ان کے وقت جو واقعات پیش آئے ان میں ان کے درجہ کا اتنا اثر نہیں تھا جتنا رسول کریم کے زمانہ سے دور ہونے کا اثر تھا کیونکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے وقت زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی الیکم کی صحبت اٹھائی تھی لیکن بعد میں دوسروں کا زیادہ دخل ہو گیا۔چنانچہ جب حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فسادنہ ہوتے تھے جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ ابو بکر اور عمر کے ماتحت میرے جیسے لوگ تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۔پھر ایک اور جگہ حضرت مصلح موعود ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اس زمانہ میں جبکہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان جنگ جاری تھی حضرت عبد اللہ بن عمر کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ حضرت علی کے زمانہ کی جنگوں میں کیوں شامل نہیں ہوتے حالانکہ قرآن کریم میں صاف حکم موجود ہے کہ وقتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ انہوں نے جواب دیا کہ۔۔۔ہم نے یہ حکم رسول کریم صلی ایم کے وقت میں پورا کر دیا ہے جبکہ اسلام بہت قلیل تھا اور آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے فتنہ میں ڈالا جاتا تھا یعنی یا تو اسے قتل کیا جاتا تھایا عذاب دیا جاتا تھا یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔پھر کسی کو فتنہ میں نہیں ڈالا جاتا تھا۔954 یعنی اگر جنگیں تھیں تو دین بدلنے کے لیے تھیں اور ان کے خلاف تھیں جو دین بدلنا چاہتے تھے۔اب یہاں تو دین قائم ہو گیا۔اسلام قائم ہو گیا۔عقیدے کا تو کوئی اختلاف نہیں ہے۔بعض نظریاتی اختلاف ہیں اس لیے میں جنگوں میں شامل نہیں ہوتا۔بہر حال یہ ان کا اپنا ایک نظریہ تھا۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”جب رومی بادشاہ نے حضرت علی اور حضرت معاویہ کی جنگ کی خبر معلوم کر کے اسلامی مملکت پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت معاویہ نے اسے لکھا کہ ہوشیار رہنا ہمارے آپس کے اختلاف سے دھو کہ نہ کھانا۔اگر تم نے حملہ کیا تو حضرت علی کی طرف سے جو پہلا جرنیل تمہارے مقابلہ کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔955 آپ نے اس کا ذرا تفصیل سے ذکر اس طرح بھی بیان فرمایا کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب روم کے بادشاہ نے حضرت علی اور حضرت معاویہ میں اختلاف دیکھا تو اس نے چاہا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے