اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 460
محاب بدر جلد 3 460 حضرت علی حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام قشم سے روایت ہے کہ حضرت علی نے میرے بڑے بیٹے کو اپنی وصیت میں لکھا کہ اس یعنی ابن ملجم کے پیٹ اور شرم گاہ میں نیزہ نہ مارا جائے۔لوگوں نے بیان کیا کہ خوارج میں سے تین آدمیوں کو نامزد کیا گیا تھا عبد الرحمن بن ملجم مُرَادِی جو قبیلہ حمیر سے تھا اور اس کا شمار قبیلہ مُراد میں ہو تا تھا جو کندہ کے خاندان بَنُو جَبَلَہ کا حلیف تھا اور بُرك بن عبد اللہ تمیمی اور عمر و بن بگیر تمیمی یہ تینوں مکہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے پختہ عہد و پیمان کیسے کہ وہ تین آدمیوں یعنی حضرت علی بن ابو طالب ، حضرت معاویہ بن ابو سفیان اور حضرت عمرو بن عاص کو ضرور قتل کریں گے ، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔یہ نام ان تین قتل کرنے والوں کے تھے جس کا واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے شروع میں بیان کیا تھا، اور لوگوں کو ان سے نجات دلائیں گے۔عبد الر حمن بن ملجم نے کہا میں علی بن ابو طالب کے قتل کا ذمہ لیتا ہوں۔برک نے کہا میں معاویہ کے قتل کا ذمہ لیتا ہوں اور عمرو بن نگیر نے کہا میں تمہیں عمر و بن عاص سے نجات دلاؤں گا۔اس کے بعد انہوں نے اس بات پر باہم پختہ عہد و پیمان کیا اور ایک دوسرے کو یقین دلایا کہ وہ اپنے نامزد کردہ شخص کو قتل کرنے کے عہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور وہ اس تک پہنچے گا یہاں تک کہ اسے قتل کر دے یا اس راہ میں اپنی جان دے دے یعنی اس حد تک وہ جائیں گے یا تو ان تینوں کو قتل کر دیں گے یا اپنی جان دے دیں گے ، واپس نہیں آئیں گے۔انہوں نے آپس میں رمضان کی سترھویں رات اس غرض کے لیے مقرر کی۔پھر ان میں سے ہر نص اس شہر کی طرف روانہ ہو گیا جس میں اس کا مطلوبہ شخص رہتا تھا یعنی جسے اس نے قتل کرنا تھا۔عبد الرحمن بن ملجم کو فہ آیا اور اپنے خارجی دوستوں سے ملا مگر ان سے اپنے قصد کو پوشیدہ رکھا۔وہ انہیں ملنے جاتا اور وہ اسے ملنے آتے رہے۔اس نے ایک روز تیم الرِّبَاب قبیلہ کی ایک جماعت دیکھی جس میں ایک عورت قطام بنت شجته بن عدی تھی۔حضرت علی نے جنگ نہروان میں اس کے باپ اور بھائی کو قتل کیا تھا۔وہ عورت ابن ملجم کو پسند آئی تو اس نے اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔اس نے کہا میں اس وقت تک تجھ سے نکاح نہ کروں گی جب تک تو مجھ سے ایک وعدہ نہ کرے۔ابن ملجم نے کہا کہ تو جو مانگے گی میں وہ تجھے دوں گا۔اس نے کہا کہ تین ہزار اور علی بن ابی طالب کا قتل۔درہم تین ہزار ہوں گے اور علی بن ابو طالب کا قتل۔اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اس شہر میں علی بن ابو طالب کو قتل کرنے کے واسطے ہی آیا ہوں اور میں تجھے وہ ضرور دوں گا جو تو نے مانگا۔پھر ابنِ مُلْجم ، شَبِيب بن بَجَرَة اشجعی سے ملا اور اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا اور اپنے ساتھ رہنے کا کہا۔شبیب نے اس کی یہ بات مان لی۔عبد الرحمن بن ملجم نے وہ رات جس کی صبح کو اس نے حضرت علی کو شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اشعث بن قیس کندی کی مسجد میں اس سے سر گوشی کرتے ہوئے گزاری۔طلوع فجر کے قریب اشعث نے اسے کہا، اٹھو صبح ہو گئی ہے۔عبد الرحمن بن ملجم اور شبيب بن بجرة کھڑے ہو گئے اور اپنی تلواریں لے کر اس تھڑے کے بالمقابل آکر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت علی نکلتے تھے۔حضرت حسن