اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 454

حاب بدر جلد 3 454 حضرت علی رض حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ رسول کریم صلی ا یکم کے بعد بھی زندہ رہے اور جب حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور ایک گروہ نے کہا کہ حضرت عثمان کے مارنے والوں سے ہمیں بدلہ لینا چاہیے تو اس گروہ کے لیڈر حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ تھے لیکن دوسرے گروہ نے کہا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ چکا ہے۔آدمی مراہی کرتے ہیں۔سر دست ہمیں تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا چاہئے تا کہ اسلام کی شوکت اور اس کی عظمت قائم ہو۔بعد میں ہم ان لوگوں سے بدلہ لے لیں گے۔اس گروہ کے لیڈر حضرت علی تھے۔یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ نے الزام لگایا کہ علی ان لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا ہے اور حضرت علی نے الزام لگایا کہ “ (جو یہ کہتے ہیں کہ فوری بدلہ لیا جائے) ان لوگوں کو اپنی ذاتی غرضیں زیادہ مقدم ہیں۔اسلام کا فائدہ ان کے مد نظر نہیں ہے۔گویا اختلاف اپنی انتہائی صورت تک پہنچ گیا اور پھر آپس میں جنگ بھی شروع ہوئی ایسی جنگ جس میں حضرت عائشہ نے لشکر کی کمان کی۔آپ اونٹ پر چڑھ کر لوگوں کو لڑواتی تھیں اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی اس لڑائی میں شامل تھے۔جب دونوں فریق میں جنگ جاری تھی تو ایک صحابی حضرت طلحہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ طلحہ ! تمہیں یاد ہے فلاں موقع پر میں اور تم رسول کریم صلی لی یکم کی مجلس میں نبیٹھے ہوئے تھے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا۔طلحہ ! ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اور لشکر میں ہو گے اور علی اور لشکر میں ہو گا اور علی حق پر ہو گا اور تم غلطی پر ہو گے۔حضرت طلحہ نے یہ سنا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے کہا ہاں ! مجھے یہ بات یاد آگئی ہے اور پھر اسی وقت لشکر سے نکل کر چلے گئے۔جب وہ لڑائی چھوڑ کر جارہے تھے تاکہ رسول کریم لی لی نام کی بات پوری کی جائے تو ایک بد بخت انسان جو حضرت علی کے لشکر کا سپاہی تھا اس نے پیچھے سے جا کر آپ کو خنجر مار کر شہید کر دیا۔حضرت علیؓ اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے وہ اس خیال سے “ یعنی جو حضرت طلحہ کا قاتل تھا اس خیال سے کہ مجھے بہت بڑا انعام ملے گا دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا اے امیر المومنین! آپ کو آپ کے دشمن کے مارے جانے کی خبر دیتا ہوں۔حضرت علی نے کہا۔کون دشمن؟ اس نے کہا۔اے امیر المومنین ! میں نے طلحہ کو مار دیا ہے۔حضرت علی نے فرمایا اے شخص! میں بھی تجھے رسول کریم صلی یم کی طرف سے بشارت دیتا ہوں کہ تو دوزخ میں ڈالا جائے گا کیونکہ رسول کریم صلی علیم نے ایک دفعہ فرمایا ( جبکہ طلحہ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی بیٹھا ہوا تھا) کہ اے طلحہ تو ایک دفعہ حق و انصاف کی خاطر ذلت برداشت کرے گا اور تجھے ایک شخص مار ڈالے گا مگر خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا۔پھر جنگ صفین ہوئی تھی۔اس کے واقعات میں لکھا ہے کہ یہ جنگ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان 137 ہجری میں ہوئی تھی۔صیفین شام اور عراق کے درمیان ایک مقام ہے۔حضرت علی گوفہ سے فوج لے کر چلے اور جب صفین پہنچے تو دیکھا کہ شامی لشکر امیر معاویہ کی سر کردگی میں پہلے سے 89566