اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 448

تاب بدر جلد 3 448 حضرت علی میں آکر کہا کہ میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ آپ کا دشمن طلحہ میرے ہاتھوں مارا گیا۔حضرت علی نے کہا کہ میں تم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ طلحہ کو ایک جہنمی قتل کرے گا۔8874 پھر ایک اور جگہ اسی واقعے کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: ” حاکم نے روایت کی ہے کہ ثور بن منجزاہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہ کے پاس سے گزرا۔اس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔“ جب اس نے زخمی کیا اس وقت نزع کی حالت تھی ”مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ سے ہو ؟ میں نے کہا کہ حضرت امیر المومنین علی کی جماعت میں سے ہوں تو کہنے لگے اچھا اپنا ہاتھ بڑھاؤ تا کہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لوں۔چنانچہ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر جان بحق تسلیم کر گئے۔میں نے آکر حضرت علی سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔آپ سن کر کہنے لگے اللہ اکبر !خدا کے رسول کی بات کیا سچی ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔(آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے)۔پہلے گو مجبوری کی بیعت تھی لیکن جیسا کہ میں نے کہا وفات سے قبل کامل شرح صدر سے بیعت کر لی۔نیکی تھی، سعادت تھی۔اللہ تعالیٰ کا جنت میں لے جانے کا وعدہ بھی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ ایسا انجام ہو کہ جب آپ خلافت کی بیعت سے باہر ہوں اور اس وقت ان کو موقع ملا اور خلافت کی بیعت کر ل 889 مسلمانوں کی تباہی کے اسباب 88866 حضرت عثمان کی شہادت اور باغیوں کا ذکر ہوا تھا اور اس بارے میں حضرت علی کی کیا کوششیں تھیں یا اب جو آگے حضرت علی کے واقعات آئیں گے ، اس بارے میں ایک بہت اہم بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ تم لوگ بھی صحابہ کے مشابہ ہو اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تاریخ سے بیان کروں کہ کس طرح مسلمان تباہ ہوئے اور کون سے اسباب ان کی ہلاکت کا باعث بنے۔پس تم ہو شیار ہو جاؤ اور جو لوگ تم میں نئے آئیں ان کے لیے تعلیم کا بندوبست کرو۔یعنی تربیت صحیح ہونی چاہیے۔ان کی دینی تعلیم ہونی چاہیے۔حضرت عثمان کے وقت جو فتنہ اٹھا تھا وہ صحابہ سے نہیں اٹھا تھا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے اٹھایا تھا ان کو دھوکا لگا ہے۔اس میں شک نہیں کہ حضرت علی کے مقابلے میں بہت سے صحابہ تھے اور معاویہ کے مقابلہ میں بھی لیکن میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے بانی صحابہ نہیں تھے بلکہ وہی لوگ تھے جو بعد میں آئے اور جنہیں آنحضرت صلی میں کم کی صحبت نصیب نہ ہوئی اور آپ کے پاس نہ بیٹھے۔پس میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں اور فتنہ سے بچنے کا یہ طریق بتاتا ہوں کہ کثرت سے اس وقت آپؐ قادیان میں تھے کہ کثرت سے ” قادیان آؤ اور بار بار آؤ تا کہ تمہارے ایمان تازہ رہیں اور تمہاری