اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 441
اصحاب بدر جلد 3 441 حضرت علی خلافت میں بعض سفروں کے پیش آنے پر حضرت علی کو اپنی جگہ مدینہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔چنانچ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ واقعہ جسر کے موقع پر جو مسلمانوں کو ایرانی فوجوں کے مقابلہ پر ایک قسم کی زک اٹھانی پڑی تو حضرت عمرؓ نے لوگوں کے مشورہ سے ارادہ کیا کہ آپ خود اسلامی فوج کے ساتھ ایران 8756 کی سرحد پر تشریف لے جائیں تو آپ نے اپنے پیچھے حضرت علی ہو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔875 حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”سب سے بڑی اور ہولناک شکست جو اسلام کو پیش آئی وہ جنگ جسر تھی۔ایرانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا زبردست لشکر گیا۔ایرانی سپہ سالار نے دریا پار اپنے مورچے بنائے اور ان کا انتظار کیا۔اسلامی لشکر نے جوش میں بڑھ کر ان پر حملہ کیا اور دھکیلتے ہوئے آگے نکل گئے مگر یہ ایرانی کمانڈر کی چال تھی۔اس نے ایک فوج بازو سے بھیج کر “ یعنی ایک سائیڈ سے بھیج کر ”پل پر قبضہ کر لیا اور تازہ حملہ مسلمانوں پر کر دیا۔مسلمان مصلحتا پیچھے لوٹے مگر دیکھا کہ پل پر دشمن کا قبضہ ہے۔گھبراکر دوسری طرف ہوئے تو دشمن نے شدید حملہ کر دیا اور مسلمانوں کی بڑی تعداد دریا میں کو دنے پر مجبور ہو گئی اور ہلاک بھی ہو گئی۔مسلمانوں کا یہ نقصان ایسا خطر ناک تھا کہ مدینہ تک اس سے ہل گیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ والوں کو جمع کیا اور فرمایا اب مدینہ اور ایران کے درمیان کوئی روک باقی نہیں۔مدینہ بالکل ننگا ہے اور ممکن ہے کہ دشمن چند دنوں تک یہاں پہنچ جائے اس لئے میں خود کمانڈر بن کر جانا چاہتا ہوں۔باقی لوگوں نے تو اس تجویز کو پسند کیا مگر حضرت علی نے کہا کہ اگر خدانخواستہ آپ کام آگئے شہید ہو گئے تو مسلمان تتر بتر ہو جائیں گے اور ان کا شیرازہ بالکل منتشر ہو جائے گا۔اس لئے کسی اور کو بھیجنا چاہئے آپ خود تشریف نہ لے جائیں۔اس پر حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کو جو شام میں رومیوں سے جنگ میں مصروف تھے لکھا کہ تم جتنا لشکر بھیج سکتے ہو بھیج دو کیونکہ اس وقت مدینہ بالکل ننگا ہو چکا ہے اور اگر دشمن کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ مدینہ پر قابض ہو جائے گا۔876 خلافت عثمان میں حضرت علی کی مخلصانہ دفاعی کوششیں حضرت عثمان کے عہد خلافت میں فتنہ و فساد ہو ا تو حضرت علی نے ان کا رفع کرنے کے لیے ان کو مخلصانہ مشورے دیے۔ایک دفعہ حضرت عثمان نے ان سے پوچھا کہ ملک میں موجود شورش اور ہنگامے کی حقیقی وجہ اور اس کے رفع کرنے کی صورت کیا ہے ؟ انہوں نے (حضرت علی نے ) نہایت خلوص اور آزادی سے ظاہر کر دیا کہ موجودہ بے چینی تمام تر آپ کے عمال کی بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں نے عمال کے انتخاب میں انہی صفات کو ملحوظ رکھا ہے جو حضرت عمر کے پیش نظر تھے پھر ان سے عام بیزاری کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔حضرت علی نے فرمایا ہاں یہ صحیح ہے لیکن حضرت عمر نے سب کی تکمیل اپنے ہاتھ میں دے رکھی تھی اور گرفت ایسی سخت تھی کہ عرب کا سرکش سے