اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 440
اصحاب بدر جلد 3 440 حضرت علی انہوں نے حضرت ابو بکر کی بیعت نہیں کی یہ بات تو حضرت علی کے مقام کو گراتی ہے نہ کہ بڑھاتی ہے۔خلفائے ثلاثہ کے دور میں حضرت علی کی کیا خدمات تھیں یعنی آپ سے پہلے جو تین خلفاء گزرے ہیں۔جب رسول کریم صلی الی یکم کی وفات ہوئی تو عرب کے بہت سے قبائل مرتد ہو گئے اور مدینہ میں بھی منافقین نے سر اٹھایا اور بنو حنیفہ اور یمامہ کے بہت زیادہ لوگ مسیلمہ کذاب کے ساتھ مل گئے جبکہ قبیلہ بنو اسد اور طے اور دیگر بہت سے لوگ طلیحہ اسدی کے گرد اکٹھے ہو گئے۔اس نے بھی مسیلمہ کی طرح نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔مصیبت بہت بڑھ گئی اور صورتحال بشدت بگڑ گئی۔ایسے میں جب حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ کے لشکر کو روانہ کیا تو آپ کے پاس بہت کم لوگ رہ گئے تھے۔اس پر بہت سے بدوؤں کا مدینہ پر قبضہ کے لیے دل للچایا اور انہوں نے مدینہ پر حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق نے مدینہ میں داخل ہونے والے مختلف راستوں پر مدینہ کے ارد گرد پہرے دار مقرر کر دیے جو اپنے دستوں کے ساتھ مدینہ کے ارد گرد پہرہ دیتے ہوئے رات گزارتے تھے۔ان پہرہ داروں کے نگرانوں میں سے حضرت علی بن ابی طالب، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ ، سعد بن ابی وقاص، عبد الرحمن بن عوف اور عبد اللہ بن مسعودؓ تھے۔873 یعنی فوج کا جو ایک حصہ تھا، جو حفاظت کے لیے مقرر کیا گیا تھا حضرت علی اس وقت بھی اس کے نگران تھے۔رسول اللہ صلی الہی ان کی وفات کی جب عام خبر پھیلی تو عرب کے اکثر قبائل مرتد ہو گئے اور ادائیگی زکوۃ سے پہلو تہی کرنے لگے۔حضرت ابو بکر صدیق نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا۔عروہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے اور جب نجد کے بلند علاقے کے بالمقابل ایک تالاب پر پہنچے تو بد و وہاں سے اپنے بال بچوں سمیت بھاگ کھڑے ہوئے۔اصل میں تو یہ ہے کہ ایک طرف مسلمان ہونے کا بھی دعوی تھا، پوری طرح مرتد بھی نہیں تھے اور دوسری طرف زکوۃ دینے سے بھی انکاری تھے اس لیے جنگ کی گئی تھی۔یہ نہیں ہے کہ مرتد ہونے کی وجہ سے ان کو سزا مل رہی تھی۔اس پر جب وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو اس پر لوگوں نے حضرت ابو بکر سے عرض کیا کہ اپنے بچوں اور عورتوں کے پاس واپس مدینہ کوٹ چلیں اور لشکر پر کسی شخص کو امیر بنا دیں۔لوگوں کے اصرار پر آپ نے حضرت خالد بن ولید کو امیر لشکر مقرر کیا اور ان سے فرمایا کہ اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں اور زکوۃ دیں تو تم میں سے جو واپس آنا چاہے یعنی بیعت میں آجائیں اور زکوۃ دیں تو جو واپس آنا چاہے وہ آجائے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر مدینہ لوٹ آئے۔874 خلافت راشدہ کے دوران امیر مدینہ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عمر نے اپنے زمانہ