اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 429

حاب بدر جلد 3 429 حضرت علی آنکھیں سخت دکھ رہی تھیں۔آپ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور آپ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا دے کر خیبر کی فتح کا کام ان کے سپر د کیا۔141 841" حضرت علی کی ایک مثال بڑی ایمان افزاء ہے حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی کی ایک مثال بڑی ایمان افزاء ہے۔جنگ خیبر میں ایک بہت بڑے یہودی جرنیل کے مقابلہ کے لئے نکلے اور بڑی دیر تک اس سے لڑتے رہے کیونکہ وہ بھی لڑائی کے فن کا ماہر تھا اس لئے کافی دیر تک مقابلہ کرتارہا، آخر حضرت علی نے اسے گرالیا اور آپ اس کی چھاتی پر چڑھ کر بیٹھ گئے اور ارادہ کیا کہ تلوار سے اس کی گردن کاٹ دیں۔اتنے میں اس یہودی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔اس پر حضرت علی اسے چھوڑ کر الگ کھڑے ہو گئے۔وہ یہودی سخت حیران ہوا کہ انہوں نے یہ کیا کیا؟ کہ حضرت علی نے مجھ پر قابو پالیا تھا پھر مجھے چھوڑ دیا۔”جب یہ میرے قتل پر قادر ہو چکے تھے تو انہوں نے مجھے چھوڑ کیوں دیا؟ چنانچہ اس نے حضرت علی سے دریافت کیا کہ آپ مجھے چھوڑ کر الگ کیوں ہو گئے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے خدا کی رضا کے لیئے لڑ رہا تھا مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے سمجھا کہ اب اگر میں تم کو قتل کروں گا تو میر اقتل کرنا اپنے نفس کے لئے ہو گا، خدا کے لئے نہیں ہو گا۔پس میں نے تمہیں چھوڑ دیا تا کہ میر اغصہ فرو ہو جائے اور میرا تمہیں قتل کرنا اپنے نفس کے لئے نہ رہے۔یہ کتنا عظیم الشان کمال ہے کہ عین جنگ کے میدان میں انہوں نے ایک شدید دشمن کو محض اس لئے چھوڑ دیا تا کہ ان کا قتل کرنا اپنے نفس کے غصہ کی وجہ سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو۔“ سورۃ توبہ کی ابتدائی آیات کاحج کے موقعہ پر اعلان 84266 الله سة روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی نے سورہ توبہ کی ابتدائی آیات کاحج کے موقع پر اعلان کیا۔یہ روایت اس طرح ہے۔ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے کہ جب سورة براءت ( سوره توبه ) رسول الله صلى علم۔نازل ہوئی تو آپ صلی للی کم حضرت ابو بکر کو بطور امیر حج بھجواچکے تھے۔آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ یہ سورت حضرت ابو بکر کی طرف بھیج دیں تاکہ وہ وہاں پڑھیں تو آپ صلی ایم نے فرمایا کہ میرے اہل بیت میں سے کسی شخص کے سوا کوئی یہ فریضہ میری طرف سے ادا نہیں کر سکتا۔پھر آپ نے حضرت علی کو بلوایا اور انہیں فرمایا: سورۂ توبہ کے آغاز میں جو بیان ہوا ہے اس کو لے جاؤ اور قربانی کے دن جب لوگ مٹی میں اکٹھے ہوں تو ان میں اعلان کر دو کہ جنت میں کوئی کافر داخل نہیں ہو گا اور اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔نہ ہی کسی کو ننگے بدن بیت اللہ کے طواف کی اجازت ہو گی اور جس کسی کے ساتھ آنحضرت علی اعظم نے کوئی معاہدہ کیا ہے اس کی مدت پوری کی جائے گی۔حضرت علی بن ابو طالب رسول اللہ صلی للی کم کی اونٹنی عضباء پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔راستہ