اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 24

اصحاب بدر جلد 3 24 حضرت عمر بن خطاب مواخات قائم فرمائی تھی۔ایک دوسری روایت کے مطابق رسول اللہ صلی الم نے حضرت عمر بن خطاب کی مؤاخات حضرت عتبان بن مالک کے ساتھ قائم فرمائی تھی۔ایک اور روایت کے مطابق حضرت عمر کی مؤاخات حضرت معاذ بن عَفَرَاء سے قائم فرمائی تھی۔51 رض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تو یہ لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کی مؤاخات حضرت عتبان بن مالک سے ہوئی تھی۔52 اذان کی ابتداء اور حضرت عمرؓ کا ایک رؤیا اذان کی ابتدا کے بارے میں ایک روایت یوں ملتی ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ : ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی ا کرم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو خواب سنائی۔یہ حضرت عبد اللہ کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے۔53 تو یہاں بھی حضرت عمر کا کیونکہ ذکر ہے اس لیے کچھ تھوڑا سا حصہ بیان کر دیتا ہوں یا دوسری روایات میں دیکھ کے کر دیتا ہوں۔تو آپ صلی علیہ نے فرمایا یقینا یہ رویا سچی ہے جو خواب بیان کی۔تم بلال کے ساتھ جاؤ کیونکہ وہ تمہاری نسبت زیادہ بلند آواز والے اور منادی کرنے والے ہیں۔ان کو بتاتے جاؤ جو تمہیں بتایا گیا ہے۔پس وہ اس کی منادی کرے۔وہ یعنی حضرت عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے نماز کے لیے حضرت بلال کی آواز سنی تو حضرت عمر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ یارسول اللہ! اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یقینا میں نے بھی وہی دیکھا ہے جیسا کہ اس نے اذان میں کہا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول الله صلى اللہ کریم نے فرمایا: پس تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔یہ بات زیادہ پختہ ہے۔حضرت مصلح موعود اس کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : 54 رسول کریم صلی ایم کے زمانہ میں حضرت عبد اللہ بن زید ایک صحابی تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کورڈیا کے ذریعہ سے اذان سکھائی اور رسول کریم صلی علی کریم نے انہی کی رؤیا پر انحصار کرتے ہوئے مسلمانوں میں اذان کا رواج ڈالا۔بعد میں قرآنی وحی نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہی اذان سکھائی تھی مگر میں دن تک میں خاموش رہا۔اس خیال سے کہ ایک اور شخص رسول کریم صلی علیم سے یہ بات بیان کر چکا ہے۔“ کیونکہ یہ پہلے بیان ہو چکی تھی اس لیے میں خاموش رہا کہ بیان کی ضرورت نہیں۔اسی کی طرف رسول کریم ملی ایم کی یہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے کہ الْمُؤْمِنُ يَرَى أَوْ يُرَى لَهُ۔یعنی مومن کو کبھی تو براہ راست خبر دی جاتی ہے سبھی دوسروں کی معرفت اسے خبر پہنچائی جاتی ہے۔5 55❝